راجدھانی دہلی میں دیوالی اور چھٹھ کے تہوار کے دوران جمنا کی صفائی سے متعلق ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ریکھا گپتا حکومت کی جانب سے دریا کو صاف و شفاف اور آلودگی سے پاک بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی صورت حال ان دعووں پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔ کالندی کنج سے منظر عام پر آنے والی تصویروں میں دریائے جمنا کی سطح پر سفید جھاگ کی موٹی تہہ نظر آ رہی ہے۔ اس صورت حال نے چھٹھ کے تہوار کے دوران جمنا کے گھاٹوں پر پہنچنے والے شردھالوؤں کی صحت اور سلامتی کے تعلق سے تشویش بڑھا دی ہے۔
کالندی کنج میں دریائے جمنا کی سطح پر سفید جھاگ
بھارت ایکسپریس کے نامہ نگار ہمانشو دوبے نے دہلی میں دریائے جمنا کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا۔ اس دوران کالندی کنج سے سامنے آنے والی تصویروں میں دریا کی سطح پر سفید جھاگ کی موٹی تہہ دیکھی گئی۔ آلودگی کی یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب راجدھانی میں دیوالی اور چھٹھ کے تہوار کی تیاریاں جاری ہیں۔ ہر سال چھٹھ پوجا کے موقع پر بڑی تعداد میں شردھالو جمنا کے گھاٹوں پر پہنچتے ہیں۔ ورت رکھنے والے شردھالو دریا میں کھڑے ہو کر سورج دیوتا کو ارگھ دیتے ہیں اور پوجا کرتے ہیں۔ ایسے میں پانی کی سطح پر اس طرح سفید جھاگ نظر آنے سے لوگوں کی تشویش بڑھ گئی ہے۔
آلودہ پانی سے صحت کو خطرہ
جمنا کے پانی میں موجود آلودہ مادوں کے رابطے میں آنے سے جلد میں جلن، خارش اور صحت سے متعلق دیگر مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں چھٹھ پوجا کے دوران ندی کے پانی میں اترنے والے عقیدت مندوں کی سلامتی کے حوالے سے سوالات اٹھنا فطری ہے۔ تاہم، پانی سے صحت کو لاحق حقیقی خطرات کا اندازہ اس کی سائنسی جانچ اور آلودگی کی سطح کا جائزہ لینے کے بعد ہی لگایا جا سکتا ہے۔
صفائی کے دعووں پر اٹھے سوالات
جمنا کو صاف اور آلودگی سے پاک بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود کالندی کنج کی موجودہ تصویریں دریا کی صفائی کے انتظامات پر سوال کھڑے کر رہی ہیں۔اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ چھٹھ تہوار سے پہلے جمنا کی حالت بہتر بنانے کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں اور شردھالوؤں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ کیا کرے گی؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



