دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) کے ایک پروفیسر کے بہیمانہ قتل کے معاملے میں پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس سنسنی خیز قتل کی گتھی سلجھانے میں سوسائٹی میں نصب ’تیسری آنکھ‘ یعنی سی سی ٹی وی کیمروں نے اہم کردار ادا کیا۔ پولیس کو ملنے والی فوٹیج میں ملزم میاں بیوی واردات کے روز پروفیسر کے فلیٹ میں آتے اور جاتے ہوئے واضح طور پر نظر آئے، جس کے بعد تفتیش نے فیصلہ کن موڑ اختیار کر لیا۔
قتل کے بعد دہلی سے فرار
پولیس تحقیقات کے مطابق پروفیسر کو قتل کرنے کے بعد ملزم جوڑا دہلی سے فرار ہو گیا تھا۔ انہیں گرفتار کرنے کے لیے دہلی پولیس کی خصوصی ٹیم نے مختلف ریاستوں میں مسلسل چھاپے مارے۔ تکنیکی نگرانی اور موبائل فون لوکیشن کی مدد سے آخرکار دونوں ملزمان کا سراغ لگا لیا گیا اور انہیں مغربی بنگال سے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس اب دونوں ملزمان کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر دہلی لا رہی ہے، جہاں انہیں عدالت میں پیش کر کے مزید ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران قتل کی اصل وجہ اور اس کے پسِ پردہ ممکنہ سازش کا پتہ لگایا جائے گا۔
سی سی ٹی وی فوٹیج بنی اہم ثبوت
پولیس ذرائع کے مطابق پروفیسر کے فلیٹ اور اس کے اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اس پورے مقدمے میں سب سے اہم اور مضبوط ثبوت ثابت ہوئی ہے۔ ویڈیو میں ملزم جوڑے کی سرگرمیاں مشتبہ دکھائی دے رہی تھیں۔ جب پولیس نے فوٹیج کے وقت کا موازنہ پروفیسر کی موت کے وقت سے کیا تو شبہ یقین میں بدل گیا۔اس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کی شناخت کی اور انہیں گرفتار کر لیا۔ افسران کو امید ہے کہ دہلی میں ہونے والی تفصیلی پوچھ گچھ کے دوران قتل کے محرکات اور پوری سازش کے بارے میں مزید اہم انکشافات سامنے آئیں گے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس سنگین جرم کے تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

