دہلی میں مانسون کی پہلی بارش ہوتے ہی سڑکوں پر پانی جمع اور ٹریفک جام کا مسئلہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ برسوں سے دارالحکومت کے شہری پہلی ہی بارش کے بعد سڑکوں پر پانی بھرنے اور آمد و رفت متاثر ہونے کا سامنا کرتے رہے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے حکومت کو گھیرا
اس دوران سابق وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال کی حکومت پر ہر سال مانسون سے قبل بڑے دعوے کرنے، لیکن زمینی سطح پر مؤثر انتظامات نہ ہونے کے الزامات لگتے رہے۔اب دہلی میں نئی حکومت قائم ہے اور اروند کیجریوال اپوزیشن کے کردار میں ہیں۔ دہلی کی سڑکوں پر جب برسات کی پہلی بارش سے ہی سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا تو انہوں نے وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا اور بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ ایک سال کے اندر پوری دہلی کو پانی میں ڈبو دیا گیا ہے۔دوسری جانب بی جے پی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس بار کئی حساس مقامات پر پہلے کے مقابلے بہتر انتظامات کیے گئے۔ خاص طور پر منٹو برج اور پل پرہلاد پور انڈر پاس، جو ہر مانسون میں پانی جمع ہونے کی علامت بن جاتے تھے، وہاں بارش سے قبل خصوصی تیاریاں کی گئیں۔
دہلی حکومت کے دعوے
حکومت کی مانیں تو منٹو برج پر جدید خودکار سینسر سے لیس پمپ نصب کیے گئے، جبکہ پل پرہلاد پور میں اضافی ہائی کیپیسٹی پمپ پہلے ہی لگا دیے گئے تھے۔ اسی وجہ سے شدید بارش کے باوجود ان مقامات پر پانی زیادہ دیر تک جمع نہیں ہونے دیا گیا اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی۔
آبی نکاسی کے حوالے سے بھی حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس بار نالوں کی صفائی کے کام کی نگرانی کے لیے جیو ٹیگنگ اور ڈیجیٹل حاضری جیسے نظام اپنائے گئے، تاکہ صفائی کے کام میں شفافیت برقرار رہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر وزراء، عوامی نمائندے اور افسران خود میدان میں موجود رہے اور نکاسیٔ آب کے کام کی نگرانی کرتے رہے۔ اس کے برعکس، اپوزیشن نے دہلی کے مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے والی تصویروں کے حوالے سے الزام لگایا ہے کہ بارش نے ایک بار پھر حکومتی دعوؤں کی حقیقت سامنے لا دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
