دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: دہلی میں بڑھتی آلودگی کے درمیان ریکھا گپتا نے 50 فیصد ورک فرام ہوم سسٹم نافذ کیا تھا، جس میں سرکاری اورپرائیویٹ سبھی دفاترمیں نصف اسٹاف کے ساتھ کام کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ آج دہلی حکومت میں وزیرکپل مشرا نے اس ضوابط پردوبارہ زوردیتے ہوئے اسے سختی سے نافذ کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ وزیرکپل مشرا کا کہنا ہے کہ دہلی کے سبھی سرکاری اورپرائیویٹ شعبوں میں 50 فیصد ورک فرام ہوم نافذ ہے۔ اس ضوابط کو صد فیصد نافذ کیا جائے۔ ساتھ ہی وزیرنے وارننگ دی ہے کہ اگرورک فرام ہوم کے ضوابط کی خلاف ورزی ہوتی ہے توکارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔
مکمل افرادی قوت کے ساتھ چلیں گے یہ محکمے
ریکھا گپتا حکومت میں وزیرکپل مشرا نے مزید کہا کہ سی اے کیوایم اورمحکمہ ماحولیات نے کچھ اصول جاری کیے تھے۔ کل سے 50 فیصد ہی حاضری ہوگی۔ دہلی کے سبھی اداروں کو 50 فیصد ورک فرام ہوم کرنا ہوگا۔ یہ کل سے جاری ہوگا۔ صرف ہیلتھ کیئر، اسپتال، فائرڈپارٹمنٹ، جیل، پبلک ٹرانسپورٹ جیسی سہولیات پرکسی طرح کی روک نہیں ہوگی۔ باقی ہرجگہ یہ ضوابط سختی سے نافذ ہوں گے۔
کپل مشرا نے پریس کانفرنس مزید کہا، “دہلی میں گریپ-4 نافذ ہے۔ لیبرڈیپارٹمنٹ نے کچھ فیصلے کئے ہیں۔ گریپ-3 میں 16 دن تک تعمیرروک دی گئی۔ دہلی حکومت دہلی میں رجسٹرڈ مزدوروں کے کھاتوں میں براہ راست 10,000 روپئے دے گی۔ گریپ-4 ختم ہونے کے بعد بھی اسی حساب سے رقم دی جائے گی۔”
عام آدمی پارٹی پرسخت تنقید
بڑھتی آلودگی پردہلی میں عام آدمی پارٹی نے بی جے پی حکومت کوگھیرنے کی کوشش کی۔ اس سے متعلق کپل مشرا نے اپوزیشن عام آدمی پارٹی کوگھیرا۔ انہوں نے کہا، “اروند کیجریوال ہر سال ایک ماہ کی چھٹی پرکیوں بھاگ جاتے تھے، بتائیں؟ آج جب ایک خاتون وزیراعلیٰ مسلسل کام کررہی ہیں توان کے ساتھ اپنے چھوٹے چھوٹے لیڈران سے بدسلوکی کرا رہے ہیں۔ یہ دہلی کی عوام اورپنجاب کی عوام دیکھ رہی ہے اوراس کا جواب دے گی۔”
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
