نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز سابق رکن اسمبلی الکا لامبا کی جانب سے درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ مقدمہ 2024 میں خواتین ریزرویشن کے حق میں کیے گئے احتجاج سے متعلق ہے۔ جسٹس سورن کانت شرما نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس سے جواب طلب کیا۔ اس سے قبل روز ایونیو کورٹ نے چارج شیٹ کا نوٹس لیتے ہوئے الکا لامبا کو سمن جاری کیا تھا۔ ان پر امتناعی احکامات کی خلاف ورزی، سرکاری ملازمین کو فرائض کی ادائیگی سے روکنے اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
نظرثانی درخواست مسترد
6 فروری کو خصوصی جج (ایم پی/ایم ایل اے) ڈگ ونے سنگھ نے الزامات طے کرنے کے فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ چارج فریم کرنے کے حکم میں کوئی واضح غیر قانونی پہلو، بدنیتی یا دائرہ اختیار کی غلطی نہیں پائی گئی۔ عدالت کے مطابق ٹرائل کورٹ نے عینی شاہدین کے بیانات اور الیکٹرانک شواہد کا جائزہ لینے کے بعد بادی النظر میں مقدمہ قائم ہونے کی بنیاد پائی۔ عدالت نے واضح کیا کہ الزامات طے کرنے کے مرحلے پر شک سے بالاتر ثبوت ضروری نہیں بلکہ کارروائی آگے بڑھانے کے لیے معقول بنیاد کافی ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ آزاد گواہوں کی عدم موجودگی، کسی کے زخمی نہ ہونے یا احتجاج کی نوعیت سے متعلق دلائل ٹرائل کے دوران زیر بحث آئیں گے، انہیں پیشگی طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔
الزامات کی باضابطہ تشکیل
14 جنوری کو روز ایونیو کورٹ نے الکا لامبا کے خلاف باضابطہ طور پر الزامات طے کیے تھے۔ 2024 میں ان کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اشوانی پنوار نے ان پر الزامات عائد کیے تھے، تاہم الکا لامبا نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے باقاعدہ سماعت کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے اپنے سابقہ حکم میں کہا تھا کہ بھارتیہ نیایا سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 132/221/223(اے)/285 کے تحت بادی النظر میں مقدمہ بنتا ہے، اس لیے انہی دفعات کے تحت چارج فریم کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


