دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے دارالحکومت کی جھگی بستیوں سے متعلق کئی اہم فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی میں اب کوئی جھگی بستی نہیں گرائی جائے گی۔ انھوں نے ریلوے، ڈی ڈی اے (دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی) اور تمام سرکاری محکموں کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی جھگی بستی کو ختم کرنے سے پہلے وہاں کے مکینوں کو متبادل رہائش فراہم کی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی کے مضافاتی علاقوں میں برسوں پہلے تعمیر کیے گئے تقریباً 50,000 فلیٹس کی تزئین و آرائش کی جائے گی اور یہ فلیٹس جھگی مکینوں کو دیے جائیں گے۔ یہ فلیٹس جواہر لال نہرو نیشنل اربن رینیول مشن (JNNURM) کے تحت بنائے گئے تھے، مگر پچھلی حکومتوں کی لاپرواہی کی وجہ سے کبھی الاٹ نہیں کیے گئے اور خستہ حالی کا شکار ہو گئے۔ ریکھا گپتا نے کہا کہ ان فلیٹس کو اب پردھان منتری آواس یوجنا (شہری) کے تحت جھگی مکینوں کو دیا جائے گا۔ مرکزی حکومت نے ان فلیٹس کی مرمت کے لیے 732 کروڑ روپے کی رقم کو دوبارہ استعمال کی اجازت دی ہے، جو پہلے واپس کی جانے والی تھی۔
دہلی کا اٹوٹ حصہ ہیں جھگی بستیوں کے مکین: ریکھا گپتا
انھوں نے مزید کہا کہ اگر جھگی بستیوں سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پڑی تو حکومت قانون میں ترمیم سے بھی گریز نہیں کرے گی، بلکہ ضرورت پڑنے پر عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جھگی بستیوں کے مکین دہلی کا اٹوٹ حصہ ہیں، جو دہائیوں سے یہاں آباد ہیں۔ انھوں نے حزب اختلاف پر الزام لگایا کہ ان بستیوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا اور ان کے مسائل کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ انھوں نے سابق کانگریس اور عام آدمی پارٹی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں نے نہ تو پینے کا پانی دیا، نہ سڑکیں بنائیں، نہ نکاسی کا بندوبست کیا، بلکہ لوگوں کو شراب کی لت میں دھکیل دیا۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ ان کی حکومت ان جھگی بستیوں کے رہائشیوں کو دہلی کا قابل فخر شہری بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
