قومی راجدھانی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بینر تلے ہونے والے احتجاج نے جمعہ اور ہفتہ کو سیاسی ہلچل پیدا کردی۔ دہلی پولیس نے سکیورٹی اور امن و قانون کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے سخت اقدامات کیے ہیں۔ اس دوران راجدھانی کے مختلف علاقوں سے تقریباً 1000 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تیز جھڑپیں بھی ہوئیں۔
جنتر منتر جانے والے کئی لیڈر حراست میں
مظاہرین نے جمعہ اور ہفتہ کو جنتر منتر پر جمع ہونے کی اپیل کی تھی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے صبح سے ہی محاذ سنبھال لیا اور احتجاج میں شامل ہونے کے لیے جانے والے کئی اہم لیڈرؤں کو راستے میں ہی روک دیا۔ ابھجیت دیپکے اور ممتا بنرجی کے بعد عام آدمی پارٹی کے لیڈرؤں اور دیگر کارکنوں کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 اور سخت پابندیاں نافذ ہیں، اس لیے بغیر اجازت کسی بھی طرح کی ہنگامہ آرائی یا گھیراؤ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد میٹرو خدمات میں تبدیلی
سی جے پی کے احتجاج کے پیش نظر دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے اہم اطلاع جاری کی ہے۔ پہلے انتظامیہ کی جانب سے 57 میٹرو اسٹیشن بند کرنے کی بات کہی گئی تھی، لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد اس میں نرمی کی گئی۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ میٹرو اور ریلوے خدمات کو منظم طریقے سے جاری رکھا جائے، تاکہ عام لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو۔ اس کے بعد جاری ترمیم شدہ ہدایت کے مطابق، سکیورٹی وجوہات کی بنا پر قومی راجدھانی کے 45 میٹرو اسٹیشن آج رات 10 بجے تک بند رہیں گے۔ متاثرہ اسٹیشنوں میں جن پتھ، پٹیل چوک، راجیو چوک، نئی دہلی، منڈی ہاؤس، آئی ٹی او، دہلی گیٹ، خان مارکیٹ، کشمیری گیٹ، سیلم پور اور جعفرآباد سمیت کئی اہم اسٹیشن شامل ہیں۔
ڈی ایم آر سی نے واضح کیا ہے کہ نئی دہلی اسٹیشن کو چھوڑ کر دیگر تمام متاثرہ اسٹیشنوں پر مسافر میٹرو ٹرین تبدیل کرسکیں گے، لیکن ان اسٹیشنوں سے باہر نکلنے یا اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
احتجاج پر سیاسی درجہ حرارت بلند
اس پورے معاملے پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے سی جے پی کے احتجاج کی کھل کر حمایت کی ہے۔ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ پُرامن احتجاج کرنا ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ وہیں، عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے مہاتما گاندھی کے ڈانڈی مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت پر آمریت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ آج حکومت نوجوانوں کو اپنی آواز اٹھانے سے روک رہی ہے۔ دوسری جانب، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس تحریک کو اسپانسر شدہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ آئینی اداروں کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ اتر پردیش حکومت کے وزیر نریندر کشیپ اور بی جے پی کے ریاستی صدر پنکج چودھری نے الزام لگایا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے کے لیے سی جے پی کا استعمال کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) جیسی کارروائیاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور یہ ووٹر لسٹ کو درست کرنے کا ایک معمول کا عمل ہے۔
اتر پردیش میں بھی ہائی الرٹ
دہلی میں جاری ہنگامے کے پیش نظر پڑوسی ریاست اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ سمیت کئی اہم شہروں میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ جوائنٹ پولیس کمشنر (امن و قانون) ببْلو کمار نے بتایا کہ لکھنؤ میں حضرت گنج، اسمبلی، لوک بھون کے علاوہ ریلوے اسٹیشنوں اور بس اڈوں پر بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ پولیس کی مقامی انٹیلی جنس یونٹ (ایل آئی یو) اور سوشل میڈیا سیل مسلسل نگرانی کررہے ہیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے فوری طور پر نمٹا جاسکے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ امن و قانون کی صورتحال خراب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

