دہلی کی زہریلی ہوا اور آسمان پر چھائی رہنے والی دھند میں کمی لانے کے لیے اب حکومتیں ایکشن موڈ میں نظر آ رہی ہیں۔ پیر کے روز دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے مرکزی وزیرِ ماحولیات بھوپیندر یادو کے ساتھ ایک نہایت اہم میٹنگ کی۔ بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد محض کاغذی گفت و شنید نہیں تھا، بلکہ دہلی کو آلودگی کے شکنجے سے نکالنے کے لیے ایک مضبوط اور عملی زمینی منصوبہ تیار کرنا تھا۔ میٹنگ میں مرکز اور دہلی حکومت کے درمیان ان مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی جو براہِ راست عام لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں دہلی کی صورتحال بدلنے کے لیے کن بڑے فیصلوں پر اتفاق ہوا ہے۔
گڑھوں سے نجات ملے گی
آلودگی کی ایک بڑی وجہ سڑکوں سے اڑنے والی گرد و غبار اور ٹریفک جام ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ دہلی کی تقریباً 3,300 کلومیٹر طویل سڑکوں کا ازسرِنو تعمیر و ترقی (ری ڈیولپمنٹ) کیا جائے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب سڑکوں کے رکھ رکھاؤ کے معاہدوں میں ایک سخت شرط شامل کی گئی ہے—اگر کہیں گڑھا بنتا ہے تو اسے 72 گھنٹوں کے اندر بھرنا لازمی ہوگا۔ اس سے نہ صرف سفر آسان ہوگا بلکہ گرد و غبار سے پیدا ہونے والی سانس کی بیماریوں میں بھی کمی آئے گی۔
ٹریفک اور گاڑیوں پر سخت نظر
ٹریفک جام میں پھنسنے والی گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں لوگوں کے پھیپھڑوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ’اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ‘ نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی آلودگی پھیلانے والی پرانی گاڑیوں کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ سختی برتی جائے گی۔ حکومت کی توجہ اب الیکٹرک گاڑیوں (EV) کو فروغ دینے پر ہے، جس کے لیے شہر بھر میں چارجنگ پوائنٹس کا جال بچھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ پورے این سی آر (NCR) کے لیے یکساں وہیکل رجسٹریشن پالیسی پر بھی غور کیا گیا تاکہ گاڑیوں کی نگرانی مزید مؤثر ہو سکے۔
کچرے کے پہاڑوں کا خاتمہ
اوکھلا، بھلسوا اور غازی پور—دہلی کے یہ تین بڑے کچرے کے پہاڑ شہر کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہیں۔ میٹنگ میں ان لینڈفل سائٹس کو ختم کرنے کے کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت کا ہدف ہے کہ ان جمع شدہ کچرے کے ڈھیروں کو جلد از جلد ہٹا کر زمین کو صاف کیا جائے، تاکہ آس پاس رہنے والے لوگوں کو بدبو اور زہریلی گیسوں سے نجات مل سکے۔
قانون توڑنے والوں پر جرمانہ
صرف گاڑیاں ہی نہیں بلکہ فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں بھی حکومت کے نشانے پر ہے۔ صنعتی یونٹس کی باقاعدہ جانچ ہوگی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس اہم میٹنگ میں مرکزی وزیرِ مملکت کیرتی وردھن سنگھ، دہلی کے کابینہ وزیر منجندر سنگھ سرسا سمیت مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔ مجموعی طور پر مرکز اور ریاستی حکومت ایک ہی آواز میں بات کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جو دہلی والوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ منصوبے زمین پر کتنی تیزی اور مؤثریت کے ساتھ نافذ ہوتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


