حکومت نے ڈرونز پر جی ایس ٹی کی شرح کو کم کرکے 5 فیصد کر دیا ہے، جو کہ اس سے قبل کیمرے والے ڈرونز کے لیے 18 فیصد اور ذاتی استعمال کے ڈرونز کے لیے 28 فیصد تک تھی۔ یکم ستمبر کو اعلان کردہ نئے قوانین کے تحت اب تمام اقسام کے ڈرونز پر چاہے وہ کسی بھی مقصد کے لیے استعمال ہوں، یکساں طور پر 5 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہو گا۔ اس اقدام سے نہ صرف دفاعی شعبے کو فائدہ پہنچے گا بلکہ مقامی مینوفیکچرنگ اور تربیت کے شعبے بھی ترقی کریں گے۔ نامور مالیاتی ادارہ نومورا نے اس تبدیلی کو دفاعی ساز و سامان کی خریداری پر بالواسطہ ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنے والا قرار دیا ہے۔
ادارے کے مطابق ’’دفاعی خریداری اور اندرون ملک مینوفیکچرنگ جی ایس ٹی کے ڈھانچے سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔ حالیہ ترامیم کے باعث اہم پرزہ جات، سسٹمز اور مہنگی درآمدات پر ٹیکس کا بوجھ کم ہو گا، جب کہ بعض اہم اشیاء پر آئی جی ایس ٹی کی چھوٹ سے بجٹ کی موثریت بڑھے گی۔‘‘ دوسری جانب سیکیورٹی فورسز کی جانب سے استعمال ہونے والے سرویلنس ڈرونز کی قیمتوں میں کمی سے ان کے استعمال کو فروغ ملنے کا امکان ہے، جس سے آپریشنل صلاحیتوں میں بہتری آئے گی۔ نومورا نے اس پہلو کو دفاعی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں حکومت نے فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ریموٹ پائلٹڈ ایئرکرافٹس (RPAs) میزائلز، بڑے راکٹس اور ڈیپ سی ڈائیونگ ری بریتھرز پر بھی جی ایس ٹی میں نمایاں کمی کی ہے، جس سے ان اشیاء کی دستیابی آسان اور کم لاگت پر ممکن ہو گی۔ ڈرون پائلٹس کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے فلائٹ سمیولیٹرز اور موشن سمیولیٹرز پر جی ایس ٹی سے استثنیٰ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو سراہتے ہوئے وزیر شہری ہوابازی رام موہن نائیڈو نے کہا کہ یہ قدم تربیتی شعبے کے لیے نیا بوسٹ ہے اور اس سے ایئرلائنز اور تربیتی اداروں کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف نئے پائلٹس کے لیے دروازے کھولے گا بلکہ بہتر تربیت یافتہ ماہرین کا ذخیرہ بھی فراہم کرے گا، جو ڈرون انڈسٹری کی طویل مدتی ترقی اور کارکردگی کے لیے مفید ہو گا۔ وہیں نومورا نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس اصلاحات کے یہ اقدامات مقامی سطح پر اسمبلی اور تحقیق کو فروغ دیں گے اور مہنگی درآمدات پر انحصار کم ہو گا، جس سے بھارت میں ٹیکنالوجی کی خودکفالت کی راہ مزید ہموار ہو گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


