Bharat Express DD Free Dish

Cyclone Arnab: سمندری طوفان ’ارنب‘ کے پیش نظر اڈیشہ میں ریڈ اور اورینج الرٹ جاری، 28 اکتوبر کی صبح آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان

آئی ایم ڈی کے مطابق، بارش 27 اکتوبر سے شروع ہوگی اور آندھرا پردیش و اڈیشہ میں سب سے زیادہ بارش 28 اکتوبر کو ہونے کی توقع ہے۔ طوفان کے سبب 27 اکتوبر کی شام سے، خصوصاً 28 اکتوبر کو، ہندوستانی ریلوے، قومی شاہراہوں اور فضائی ٹرانسپورٹ کی خدمات متاثر ہوسکتی ہیں۔ بندرگاہوں اور جہاز رانی کی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔ 

بھونیشور: سمندری طوفان ’ارنب‘ کے پیش نظر ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے اڈیشہ کے مختلف اضلاع میں شدید سے انتہائی شدید بارش کے لیے ریڈ اور اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، طوفان کے مزید شدت اختیار کرکے انتہائی شدید سمندری طوفان بننے اور 28 اکتوبر کی صبح یانم کے قریب آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے فائر سروس کی 225 ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) نے بھی امدادی کارروائیوں کے لیے اپنے دستے متحرک کردیے ہیں۔ طوفان کے باعث اڈیشہ کے کئی اضلاع میں شدید سے بہت شدید بارش، تیز ہواؤں اور بعض علاقوں میں زمین کھسکنے کا خدشہ ہے۔ آئی ایم ڈی نے 28 اکتوبر کو ریاست میں وسیع پیمانے پر بارش کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ بعض اضلاع میں الگ تھلگ مقامات پر انتہائی شدید بارش ہوسکتی ہے۔ 29 اکتوبر تک طوفان کے اثرات برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم 30 اکتوبر سے بارش کی سرگرمی میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔

27 اور 28 اکتوبر کو شدید بارش کی پیش گوئی

آئی ایم ڈی بھونیشور کی ڈائریکٹر منورما موہنتی نے بتایا کہ سمندری طوفان ارنب گزشتہ چھ گھنٹوں کے دوران 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مشرق وسطیٰ خلیج بنگال اور اس سے متصل مغربی وسطی خلیج بنگال میں آگے بڑھ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ طوفان کے مغرب۔شمال مغرب کی سمت بڑھنے اور 26 اکتوبر کی نصف شب تک مغربی وسطی خلیج بنگال میں شدید سمندری طوفان کی شکل اختیار کرنے کا امکان ہے۔ اس کے بعد 27 اکتوبر کو اس کے مزید شدت اختیار کرکے انتہائی شدید سمندری طوفان بننے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ منورما موہنتی کے مطابق، طوفان یانم کے قریب باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ اس وقت ہوا کی زیادہ سے زیادہ مسلسل رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے اور جھکڑوں کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اڈیشہ میں طوفان سے متعلق بارش 27 اکتوبر کی شام یا رات سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس روز پوری، گنجام، گجپتی، رائے گڑھ اور کوراپٹ اضلاع میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہوسکتی ہے۔ ان علاقوں کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے اور بارش 12 سے 20 سینٹی میٹر تک ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے 27 اکتوبر کو میور بھنج، کیونجھر، بالیشور، بھدرک، جاج پور، کیندرپاڑا، کٹک، جگت سنگھ پور، نیاگڑھ، کالاہانڈی، نبرنگ پور، بودھ، نوپاڑا اور بلانگیر اضلاع میں بھی بعض مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ اسی روز میور بھنج، گنجام، گجپتی، رائے گڑھ، کوراپٹ، ملکان گیری اور پوری اضلاع میں 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں، جبکہ جھکڑوں کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ 28 اکتوبر کو اڈیشہ میں وسیع پیمانے پر بارش متوقع ہے۔ گنجام، گجپتی، رائے گڑھ، کوراپٹ اور ملکان گیری میں الگ الگ مقامات پر انتہائی شدید بارش ہوسکتی ہے۔ نبرنگ پور، کالاہانڈی اور کندھمال کے بعض علاقوں میں شدید سے بہت شدید بارش، جبکہ بلانگیر میں الگ تھلگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ کالاہانڈی، کندھمال، نبرنگ پور، بلانگیر، پوری، کھوردھا، نیاگڑھ، بر گڑھ اور نوپاڑا اضلاع میں بھی 28 اکتوبر کو شدید سے بہت شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اڈیشہ کے چھ اضلاع میں خصوصی تیاریاں، 225 ٹیمیں تعینات

سمندری طوفان ارنب سے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کے لیے اڈیشہ حکومت نے تیاریاں تیز کردی ہیں۔ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے حساس اضلاع میں ٹیموں، کشتیوں اور خصوصی آلات کو تعینات کرنا شروع کردیا ہے۔ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر اُما شنکر داس نے اے این آئی کو بتایا کہ ملکان گیری، کوراپٹ، رائے گڑھ، نبرنگ پور، گجپتی اور گنجام سمیت چھ اضلاع کو خصوصی توجہ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طوفان کے باعث تیز ہواؤں، شدید بارش اور زمین کھسکنے کا خدشہ ہے۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے فائر سروس کے 225 دستے جدید آلات اور خصوصی گاڑیوں کے ساتھ تعینات کیے جا رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں 100 سے زیادہ کشتیاں بھی بھیجی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر داس کے مطابق، امدادی کارروائیوں اور زمینی صورت حال کی نگرانی کے لیے ریاستی سطح کا کمانڈ سینٹر چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اضافی اہلکاروں، آلات اور گاڑیوں کو بھی تعینات کیا جائے گا۔ این ڈی آر ایف نے بھی طوفان کے الرٹ کے پیش نظر اڈیشہ اور پڑوسی ریاستوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے ٹیمیں متحرک کردی ہیں۔ منڈولی میں واقع این ڈی آر ایف کی تیسری بٹالین کے سیکنڈ اِن کمانڈ سنتوش کمار پاسوان نے بتایا کہ اڈیشہ میں پانچ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ وشاکھاپٹنم کے لیے چار ٹیموں کو متحرک کیا گیا ہے اور چھتیس گڑھ میں بھی چار ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تمام ضروری آلات سے لیس ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق، ٹیموں کو کم سے کم وقت میں روانہ کرنا فورس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے اور اس کے لیے کم از کم 20 منٹ کا وقت مقرر ہے۔

14 میٹر سے بلند لہروں اور سمندری طغیانی کا خدشہ

دہلی میں آئی ایم ڈی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مرتیونجے مہاپاترا نے بتایا کہ ارنب نے پیر کی صبح سمندری طوفان کی شکل اختیار کی تھی اور دوپہر تک یہ خلیج بنگال کے وسطی حصے میں کاکیناڈا سے تقریباً 650 کلومیٹر دور تھا۔ انہوں نے کہا کہ طوفان کے پیر کی شام تک شدید اور منگل تک انتہائی شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ ساحل سے ٹکرانے کے وقت ہوا کی زیادہ سے زیادہ مسلسل رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ سکتی ہے، جبکہ جھکڑ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک چل سکتے ہیں۔ اس وقت ہوا کی رفتار 70 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے، جو جھکڑوں کے دوران 90 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ ڈاکٹر موہاپاترا کے مطابق، 27 اکتوبر کو سمندر کی کیفیت انتہائی خراب سے غیر معمولی حد تک خطرناک ہوسکتی ہے اور لہروں کی بلندی 14 میٹر سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی اڈیشہ کے ساحلی علاقوں میں ہواؤں کی رفتار 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ سکتی ہے، جبکہ جھکڑ 90 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ آندھرا پردیش کے ساحلی اضلاع میں سمندری طغیانی کے باعث معمول کی مدوجزر کی سطح سے 1 سے 1.5 میٹر بلند پانی نشیبی علاقوں میں داخل ہوسکتا ہے۔ سب سے زیادہ طغیانی کا امکان مشرقی گوداوری، کاکیناڈا اور یانم کے علاقوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔

ریل، سڑک اور فضائی خدمات متاثر ہونے کا امکان

آئی ایم ڈی کے مطابق، بارش 27 اکتوبر سے شروع ہوگی اور آندھرا پردیش و اڈیشہ میں سب سے زیادہ بارش 28 اکتوبر کو ہونے کی توقع ہے۔ طوفان کے سبب 27 اکتوبر کی شام سے، خصوصاً 28 اکتوبر کو، ہندوستانی ریلوے، قومی شاہراہوں اور فضائی ٹرانسپورٹ کی خدمات متاثر ہوسکتی ہیں۔ بندرگاہوں اور جہاز رانی کی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے اور ماہی گیری کی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رکھنے کی سفارش کی ہے۔ حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم سے متعلق تازہ ہدایات پر عمل کریں اور احتیاط برتیں۔ آئی ایم ڈی کے مطابق، 30 اکتوبر سے بارش کی سرگرمی میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read