دہلی کی ساکیت عدالت نے معروف کاروباری شخصیت اور مفرور للت مودی کے بھائی سمیر مودی کی ریمانڈ میں دو دن کی توسیع کر دی ہے۔ پولیس نے تین دن کی ریمانڈ کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے صرف دو دن کی مہلت دی۔ سمیر مودی کو دہلی پولیس نے جنسی زیادتی کے ایک پرانے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق 10 ستمبر 2025 کو ایک خاتون کی شکایت پر ڈیفینس کالونی تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ خاتون کا الزام ہے کہ وہ گزشتہ 7 سے 8 سال سے سمیر مودی کے ساتھ لیو-ان ریلیشن شپ میں تھیں۔ دونوں جنوبی دہلی کے ایک معروف جم میں ایک ساتھ جاتے تھے۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ سمیر مودی نے شادی کا جھانسہ دے کر کئی مرتبہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور بعد میں دھمکیاں بھی دیں۔
پولیس نے سمیر مودی کو لندن سے دہلی آنے پر اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کیا۔ سمیر مودی پر ریپ، دھوکہ دہی اور دھمکی جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ خاتون کی شکایت کے بعد عدالت کی ہدایت پر پولیس نے ایف آئی آر درج کی تھی۔ دوسری جانب سمیر مودی کے وکیل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ خاتون سمیر مودی کو بلیک میل کر رہی تھی اور 50 کروڑ روپے کا مطالبہ کر چکی تھی۔ وکیل نے بتایا کہ سمیر مودی نے اگست 2025 میں پولیس میں اس سلسلے میں شکایت بھی درج کرائی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس نے مکمل تفتیش کے بغیر ہی ان کو گرفتار کر لیا۔
واضح رہے کہ 55 سالہ سمیر مودی نے 1992 میں امریکہ میں فلپ مورس کمپنی کے ساتھ بطور ٹرینی کام شروع کیا تھا۔ بعد میں وہ اپنے خاندانی کاروبار سے منسلک ہو گئے اور 1996 میں ’’مودی کیئر‘‘ کی بنیاد رکھی۔ وہ ماضی میں بھی تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ سمیر کے والد کے کے مودی کی 11,000 کروڑ روپے کی جائیداد کے سلسلے میں بھی خاندانی جھگڑا جاری رہا۔ سال 2004 میں سمیر مودی نے دہلی پولیس میں شکایت درج کروائی تھی کہ ان کی والدہ کے پرسنل سیکیورٹی افسر نے گڈفری فِلپس انڈیا کی بورڈ میٹنگ کے دوران ان پر حملہ کیا، جسے کمپنی سے نکالنے کی سازش قرار دیا گیا تھا۔ تاہم ان کی والدہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

