اُترکاشی میں مسلسل موسلادھار بارش اور لینڈ سلائڈنگ کے باعث حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں۔ گنگوتری دھام کی یاترا پر گئے تقریباً500 عقیدت مندوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جس سے اہل خانہ اور انتظامیہ میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ ان لاپتہ افراد میں مہاراشٹر کے 24 یاتری اور کرناٹک و ممبئی سے 64 یاتری شامل ہیں۔
ممبر اسمبلی کا بیان اور زمینی صورتحال
پرتاپ نگر کے ممبر اسمبلی وکرم سنگھ نیگی کے مطابق مہاراشٹر کے ان کے دوست شیکھر چودھری نے اطلاع دی ہے کہ اُترکاشی اور گنگوتری کے درمیان پھنسے 24 مہاراشٹری یاتریوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
ریسکیو مہم میں فوج اور ایجنسیاں سرگرم
راحت اور بچاؤ کے کام میں فوج، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف اور آئی ٹی بی پی کی ٹیمیں دن رات مصروف ہیں۔ کھوجی کتوں اور ڈرون سروے کی مدد سے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے۔ اب تک 13 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا ہے، جن میں فوج کے 11 زخمی جوان اور2 مقامی افراد شامل ہیں۔ جائے حادثہ سے دو لاشیں بھی برآمد کی گئی ہیں، جن میں سے ایک کی شناخت ہو چکی ہے۔ تاہم فوج کے 9 جوانوں سمیت 19 افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
پولیس اور انتظامیہ کی بڑی تعیناتی
ریسکیو آپریشن میں پولیس بھی پوری قوت سے شامل ہے۔ موقع پر10 ڈپٹی ایس پی، 160 پولیس اہلکار، 3 ایس پی رینک افسران، 1 کمپنی پی اے سی اور 1 کمپنی آفات راحت دستہ تعینات کیے گئے ہیں۔
مواصلاتی نظام بند، رابطے بحال ہونے کا انتظار
مرکزی حکومت کے مطابق جیسے ہی علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ کنکٹیویٹی بحال ہوگی، لاپتہ یاتریوں سے رابطہ ممکن ہو سکے گا۔ فی الحال تمام ریسکیو ایجنسیاں پوری سنجیدگی سے کوششیں کر رہی ہیں۔
عوام کی دعائیں اور امیدیں جاری
حالات اب بھی سنگین ہیں اور ہرگزرتا لمحہ یاتریوں کی سلامتی کے لیے قیمتی ثابت ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں لوگ لاپتہ افراد کی بخیر واپسی کے لیے دعا گو ہیں جبکہ فوج اور ریسکیو ٹیمیں ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




