پڑوسی ملک نیپال میں ایک بار پھر قدرت کا قہر دیکھنے کو ملا ہے۔ 26 اگست 2026 کو نیپال-تبت سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے شدید گلیشیئر دھماکے کے بعد بھوٹے کوشی ندی کے علاقے میں تباہ کن ’فلیش فلڈ‘ آ گیا۔ اس آفت نے ندی کے کنارے آباد درجنوں دیہات، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کو دیکھتے ہی دیکھتے ملبے میں تبدیل کر دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس حادثے میں 700 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ سیکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس ہولناک واقعے نے ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ ’فلیش فلڈ‘ کی سائنسی وجوہات اور اس کی تباہ کن نوعیت کی جانب مبذول کرائی ہے۔ ہمالیائی علاقوں میں بار بار آنے والی ایسی آفات نے یہ بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر چند منٹوں میں سب کچھ تباہ کر دینے والا یہ فلیش فلڈ کیا ہے اور یہ اتنا جان لیوا کیوں ثابت ہوتا ہے؟
فلیش فلڈ کیا ہوتا ہے؟
موسمیات اور عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کے مطابق، فلیش فلڈ محض شدید بارش کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ وقت اور رفتار کا ایسا خطرناک امتزاج ہے جو انسان کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں دیتا۔ یہ عام طور پر شدید بارش، بادل پھٹنے یا گلیشیئر ٹوٹنے کے 6 گھنٹے کے اندر اور زیادہ تر معاملات میں 3 گھنٹے سے بھی کم وقت میں انتہائی تیز رفتاری سے وادی یا شہر کی جانب بڑھتا ہے۔
واقعے کے 3 سے 6 گھنٹے کے اندر اچانک شروع ہو سکتا ہے۔
چند سو مربع کلومیٹر کے بیسن میں انتہائی شدت کے ساتھ مرکوز ہوتا ہے۔
مقامی سطح پر اچانک پانی بھرنے کی وجہ سے وارننگ جاری کرنے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔
عام سیلاب اور فلیش فلڈ میں فرق
عام موسمی سیلاب اور فلیش فلڈ کے درمیان سب سے بڑا فرق پانی کی سطح بڑھنے کی رفتار اور اس کے تباہ کن اثرات کا ہوتا ہے۔ جہاں موسمی سیلاب میں پانی کی سطح دنوں یا ہفتوں میں بتدریج بڑھتی ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے کافی وقت مل جاتا ہے، وہیں فلیش فلڈ پانی کی سونامی کی طرح کام کرتا ہے، جو بڑی چٹانوں، درختوں اور کنکریٹ کے مکانات کو تنکوں کی طرح بہا لے جاتا ہے۔
ماہرینِ ارضیات اور ماہرینِ آب شناسی کے مطابق، فلیش فلڈ صرف قدرتی وجوہات کی وجہ سے نہیں آتا بلکہ انسانی مداخلت اور غیر منصوبہ بند ترقیاتی سرگرمیوں کے باعث بھی یہ انتہائی تباہ کن شکل اختیار کر رہا ہے۔ جب قدرتی آبی گزرگاہ کے نظام میں اچانک بڑی رکاوٹ پیدا ہو جائے یا پانی کا شدید دباؤ بن جائے تو یہ دباؤ بند یا رکاوٹ کو توڑ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں سیلاب انتہائی خطرناک اور تباہ کن شکل اختیار کر لیتا ہے۔
تاریخ کی سب سے بھیانک فلیش فلڈ آفات
(3 بڑی فلیش فلڈ آفات)
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی فلیش فلڈ نے قہر برپا کیا ہے، اس نے پورے کے پورے شہروں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر میں ایسے کئی واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جنہوں نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا۔
- بنکیاؤ ڈیم حادثہ (چین، 1975):
سپر ٹائیفون نینا کے باعث 24 گھنٹوں کے اندر 1060 ملی میٹر بارش ہوئی۔ ڈیم ٹوٹنے کے بعد تقریباً 20 فٹ بلند پانی کی دیوار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھی، جس کی زد میں آکر براہِ راست 26,000 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بعد میں قحط کے باعث 2.4 لاکھ سے زائد لوگوں کی جان چلی گئی۔
- جانز ٹاؤن حادثہ (امریکہ، 1889):
شدید بارش کے بعد ساؤتھ فورک ڈیم ٹوٹ گیا اور محض 10 منٹ میں 20 ملین ٹن پانی شہر میں داخل ہو گیا۔ اس تباہ کن سیلاب میں 2,209 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
- کیدارناتھ سانحہ (بھارت، 2013):
بادل پھٹنے اور چوراباری گلیشیئر جھیل کے پھٹنے کے باعث دریائے منداکنی میں لاکھوں ٹن پانی اور بڑے بڑے پتھر بہہ کر آئے۔ اس تباہ کن سیلاب میں 5,700 سے زائد یاتری اور مقامی شہری ہلاک یا لاپتہ ہو گئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


