Bharat Express DD Free Dish

Ashutosh Ranka and Saurabh Das: سی جے پی لیڈر سوربھ داس اور آشوتوش رانکا نے دہلی ہائی کورٹ سے عرضی واپس لی

دہلی ہائی کورٹ نے سی جے پی لیڈر سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو اپنی عرضی واپس لینے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کی تبدیلی کا ذریعہ انتخابات ہونا چاہیے، نہ کہ افراتفری پھیلانا۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے سی جے پی (CJP) کے لیڈر سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو ان کی عرضی واپس لینے کی اجازت دے دی ہے۔ دونوں لیڈروں نے اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (SEM) کی عدالت کی جانب سے عدالتی حراست کی مدت بڑھانے کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران عرضی گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ ایس ای ایم عدالت کے آج کے فیصلے کے بعد ہی آئندہ قانونی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے مقدمے کے میرٹ پر کوئی رائے دیے بغیر عرضی واپس لینے کی اجازت دے دی۔

سماعت کے دوران ہائی کورٹ کا تبصرہ

عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی عمر، بالترتیب 27 اور 31 سال، کا ذکر کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ’’آپ جنریشن زی (Gen Z) نہیں ہیں۔‘‘ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر کسی تحریک یا احتجاج کا مقصد اقتدار کی تبدیلی ہے تو یہ تبدیلی صرف انتخابات کے ذریعے ہی ہونی چاہیے، نہ کہ افراتفری پھیلا کر۔ سماعت کے دوران عدالت نے عرضی گزاروں کے وکیل سے براہ راست سوال کیا کہ جب یہ معاملہ اسی دن ایس ای ایم عدالت کے سامنے پیش ہونے والا تھا تو ہائی کورٹ آنے کی اتنی جلدی کیوں تھی؟ عدالت نے مشورہ دیا کہ اگر ایسے حکم پر ایس ای ایم عدالت کی سطح پر غور کیا جا سکتا ہے تو عرضی واپس لینا ہی بہتر ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ دوپہر میں ایس ای ایم عدالت کی کارروائی کا انتظار کیا جائے اور دیکھا جائے کہ وہاں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد قانون کے تحت دستیاب دیگر راستوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔

احتجاج اور بیریکیڈ توڑنے پر تشویش

سماعت کے دوران عدالت نے احتجاج کے وقت امن و امان بگڑنے کے خدشے اور بیریکیڈ توڑنے جیسی سرگرمیوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔ عدالت نے کہا کہ دونوں عرضی گزار لیڈر ایسے مظاہروں میں سب سے آگے رہتے ہیں۔ جب آپ خود آگے بڑھ کر بیریکیڈ توڑتے ہیں تو اس بات کا پورا خطرہ ہوتا ہے کہ پیچھے کھڑے 10 سے 20 دیگر افراد بھی ایسا کرنے لگیں، جن پر آپ کا کوئی کنٹرول نہیں ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ دوسرے ممالک کی تاریخ میں بھی دیکھا گیا ہے کہ احتجاج کی شروعات اگرچہ مکمل طور پر پُرامن انداز میں ہوتی ہے، لیکن بعد میں حالات کس حد تک بگڑ سکتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔

’’اگر آج ہی رہا کر دیا گیا تو کیا ہوگا؟‘‘

عدالت نے مزید واضح کیا کہ اس روز مقدمے کی کوئی حتمی سماعت نہیں ہو رہی تھی۔ اگر عرضی پر کارروائی آگے بڑھائی جاتی تو عدالت کو دہلی پولیس سے جواب داخل کرنے کے لیے کہنا پڑتا۔ عدالت نے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج شام چار بجے ایس ای ایم عدالت کی کارروائی عرضی گزاروں کے حق میں ہوتی ہے تو معاملہ یہیں ختم ہو جائے گا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو بھی ان کے پاس قانون کے مطابق آگے بڑھنے کے دیگر راستے موجود رہیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read