Bharat Express DD Free Dish

Chandigarh Protest: چنڈی گڑھ میں احتجاجی مظاہرہ: سکھ قیدیوں کی رہائی کے مطالبے پر ہنگامہ، پولیس نے داغے آنسو گیس کے گولے

چنڈی گڑھ میں یومِ آزادی کے موقع پر سکھ قیدیوں کی رہائی کے مطالبے سے متعلق احتجاج کے دوران حالات کشیدہ ہوگئے۔ ’قومی انصاف مورچہ‘ کے کارکنوں نے سکھ قیدیوں کی رہائی کے مطالبے پر پنجاب کے گورنر ہاؤس کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جسے پولیس نے چندی گڑھ-موہالی سرحد پر روک دیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان ٹکراؤ کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

سکھ قیدیوں کی رہائی کے مطالبے پر پنجاب کے گورنر ہاؤس کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جسے پولیس نے چنڈی گڑھ-موہالی سرحد پر روک دیا۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ان سکھ قیدیوں کو رہا کیا جائے جو طویل عرصے سے جیلوں میں بند ہیں اور بعض کے بارے میں مورچہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی سزائیں مکمل کرچکے ہیں۔ مظاہرین نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب بےانت سنگھ کے قتل کے مجرم جگتار سنگھ ہوارا سمیت دیگر قیدیوں کی رہائی اور ہوارا کو پیرول دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

بیریکیڈ توڑنے کی کوشش سے بڑھی کشیدگی

احتجاجی کارکن جب گورنر ہاؤس کی جانب آگے بڑھنے لگے تو پولیس نے راستے میں بھاری بیریکیڈنگ کردی۔ کچھ مظاہرین نے بیریکیڈ ہٹانے اور آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ رپورٹس کے مطابق بعض افراد نے ٹریکٹر کی مدد سے بیریکیڈ توڑنے کی بھی کوشش کی، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی تیز بوچھار کا استعمال کیا۔ کچھ مقامات پر مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ پولیس کارروائی کے دوران متعدد مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

سمرنجیت سنگھ مان بھی حراست میں لیے گئے

احتجاج کے دوران شرومنی اکالی دل کے لیڈر اور سابق رکنِ پارلیمنٹ سمرنجیت سنگھ مان بھی موقع پر پہنچے۔ رپورٹس کے مطابق وہ زخمی مریض کا بھیس اختیار کرکے گورنر ہاؤس کے قریب پہنچے تھے، تاہم پولیس نے انہیں شناخت کرکے حراست میں لے لیا۔

پہلے سے تعینات تھی بھاری سکیورٹی

یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر چنڈی گڑھ میں پہلے ہی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ احتجاجی مارچ کے اعلان کے بعد شہر میں تقریباً 3 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ پولیس کا مقصد مظاہرین کو گورنر ہاؤس تک پہنچنے سے روکنا اور یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران امن و امان برقرار رکھنا تھا۔’قومی انصاف مورچہ‘ گزشتہ کئی برس سے سکھ قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کے سلسلے میں احتجاج کر رہا ہے۔ تازہ واقعے کے بعد اس معاملے نے ایک بار پھر پنجاب کی سیاست اور سکھ قیدیوں کی رہائی سے متعلق بحث کو تیز کردیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read