چنڈی گڑھ کو آئین کے آرٹیکل 240 کے دائرے میں لانے کی خبروں کے درمیان پنجاب کی سیاست گرما گئی تھی۔ اب وزارت داخلہ نے باضابطہ بیان جاری کر کے اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ مرکزی حکومت صرف چنڈی گڑھ کے لیے قانون سازی کے عمل کو آسان بنانے پر غور کر رہی ہے۔ یہ تجویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
موجودہ نظام برقرار رہے گا
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ اس تجویز سے چنڈی گڑھ کے موجودہ انتظامی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور نہ ہی پنجاب اور ہریانہ کے روایتی تعلقات پر کوئی اثر پڑے گا۔ وزارت نے کہا کہ چنڈی گڑھ کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام فریقین سے مشاورت کے بعد ہی آئندہ کا فیصلہ لیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ آنے والے سرمائی اجلاس میں اس موضوع پر کوئی بل لانے کا حکومت کا ارادہ نہیں ہے۔
تنازع کیسے شروع ہوا؟
تنازع اس وقت بڑھا جب پارلیمنٹ کے بلیٹن میں ’’آئین (131واں ترمیم) بل، 2025‘‘ کا ذکر سامنے آیا۔ اس بل میں چنڈی گڑھ کو آرٹیکل 240 میں شامل کرنے کی تجویز تھی، جس کے تحت صدرِ جمہوریہ کو چنڈی گڑھ کے لیے براہِ راست قوانین بنانے کا اختیار مل جائے گا۔ سیاسی جماعتوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے چنڈی گڑھ کا انتظام پنجاب کے ہاتھوں سے نکل کر ایک آزاد ایڈمنسٹریٹر کے پاس چلا جائے گا۔
پنجاب میں احتجاج
اس تجویز پر پنجاب میں سخت ردعمل دیکھنے کو ملا۔ وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اسے پنجاب کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔ کانگریس صدر راجہ وڑِنگ نے خبردار کیا کہ چنڈی گڑھ کو چھیننے کی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج ہوں گے۔ اکالی دل کے سربراہ سکھبیر بادل نے اسے پنجاب کے حقوق پر حملہ قرار دیا۔ وہیں عام آدمی پارٹی کے ایم پی وکرم جیت سنگھ ساہنی نے تمام پنجاب کے ایم پیز سے اپیل کی کہ وہ وزیر داخلہ سے ملاقات کریں۔ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی اس تجویز پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


