Bharat Express DD Free Dish

Chandauli kite dispute violent: چندولی میں پتنگ کے تنازع پر دو فریقوں میں زبردست مارپیٹ، آدھا درجن افراد زخمی

چندولی کے دِگّھی گاؤں میں بچوں کے درمیان پتنگ چھیننے کے تنازع نے سنگین شکل اختیار کر لی۔ دو فریقوں کے درمیان زبردست لاٹھی ڈنڈے چلے، جس میں آدھا درجن افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے دو ملزمان کو جیل بھیج دیا ہے۔

چندولی ضلع کے صدر کوتوالی علاقے کے دِگّھی گاؤں میں بچوں کے درمیان پتنگ چھیننے کو لے کر شروع ہونے والا تنازع دیکھتے ہی دیکھتے دو فریقوں کے درمیان بڑے جھگڑے میں تبدیل ہو گیا۔ معمولی سی بات پر دونوں فریق آمنے سامنے آ گئے اور بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔

لاٹھی ڈنڈوں سے ہوئی جھڑپ

گاؤں میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر لاٹھی ڈنڈوں سے حملہ کر دیا۔ مارپیٹ کی اس واردات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس واقعے میں ایک ہی خاندان کے تقریباً  آدھا درجن افراد زخمی ہو گئے۔

زخمیوں کا علاج جاری

جھگڑے میں زخمی ہونے والوں کو علاج کے لیے ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا علاج کر رہی ہے اور فی الحال سب کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔

معاملے کی جانچ جاری

گاؤں میں کھیل رہے بچوں کے ذریعہ پتنگ لوٹنے کے معاملے پر تنازع اتنا بڑھ گیا کہ بچوں کے گھر والوں یعنی دو فریقوں کے درمیان زبردست لاٹھی ڈنڈے چلنے لگے، جس میں آدھا درجن افراد زخمی ہو گئے۔ مارپیٹ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور معاملے کی تفتیش شروع کر دی۔ پولیس نے دونوں فریقوں کے آدھا درجن سے زائد افراد کے خلاف نامزد مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ دو ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

گاؤں میں کشیدگی کا ماحول

واقعے کے بعد گاؤں میں کشیدگی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ پولیس نے احتیاطی طور پر گاؤں میں گشت بڑھا دی ہے تاکہ دوبارہ کوئی تنازع نہ ہو۔ افسران کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سخت کارروائی کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read