نئی دہلی: سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن یعنی سی بی ایس ای نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بورڈ کا آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) پورٹل ہیک یا کمپرو مائز ہو گیا ہے۔ بورڈ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جس ویب سائٹ cbse.onmarks.co.in کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہ اصل جانچ اور مارکنگ کے لیے استعمال ہونے والا پورٹل نہیں بلکہ صرف ایک ٹیسٹنگ ویب سائٹ تھی، جسے اندرونی آزمائش اور تکنیکی جانچ کے مقصد سے استعمال کیا جا رہا تھا۔
سی بی ایس ای کے مطابق اس ٹیسٹنگ ویب سائٹ پر طلبہ کی اصل جوابی کاپیاں، نمبرات یا امتحانی جائزے سے متعلق کوئی حقیقی معلومات موجود نہیں تھیں۔ بورڈ نے واضح کیا کہ کسی بھی طالب علم کا ڈیٹا لیک نہیں ہوا اور نہ ہی مارکس یا امتحانی عمل سے متعلق حساس معلومات کسی کے ہاتھ لگی ہیں۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اصل آن اسکرین مارکنگ سسٹم کا یو آر ایل الگ ہے اور اس میں کسی قسم کی سیکورٹی خامی سامنے نہیں آئی۔ سی بی ایس ای نے اپنے بیان میں کہا کہ آن اسکرین مارکنگ سسٹم کو امتحانی عمل میں شفافیت بڑھانے، شکایات کے ازالے کو بہتر بنانے اور جانچ کے عمل کو جدید بنانے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ بورڈ نے یقین دہانی کرائی کہ اصل ڈیجیٹل ایویلیوایشن پلیٹ فارم پر سخت سیکورٹی انتظامات اور جدید حفاظتی اقدامات موجود ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی گڑبڑی یا ڈیٹا لیک کے امکانات کو روکا جا سکے۔
Clarification Regarding Claim of Compromise of CBSE OSM Portal
In a post made by a user on social media, it has been claimed that the CBSE On Screen Marking (OSM) bearing URL: https://t.co/cuLrvsxzOH was compromised by him on 26.02.2026. This has also formed the basis for a few…
— CBSE HQ (@cbseindia29) May 26, 2026
تاہم دوسری جانب طلبہ، والدین اور بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے نئے او ایس ایم سسٹم پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متعدد طلبہ کا دعویٰ ہے کہ اس نئے ڈیجیٹل ایویلیوایشن نظام کی وجہ سے امتحانی نتائج میں گڑبڑیاں سامنے آئی ہیں، جس سے نہ صرف ان کی اعلیٰ تعلیم کے امکانات متاثر ہوئے بلکہ ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب بارہویں جماعت کے طالب علم ویدانت نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ اس کے رول نمبر کے تحت اپ لوڈ کی گئی فزکس کی اسکین شدہ جوابی کاپی کی ہینڈ رائٹنگ اس کی اپنی تحریر سے مختلف تھی۔ اس دعوے کے بعد طلبہ اور والدین میں تشویش پیدا ہوئی کہ آیا اصل جوابی کاپیوں کی جانچ درست طریقے سے کی گئی تھی یا نہیں۔
بعد ازاں کئی دیگر طلبہ نے بھی ری ایویلیوایشن پورٹل سے حاصل شدہ اپنی جوابی کاپیوں پر اعتراضات اٹھائے اور مارکس کے دوبارہ جائزے کا مطالبہ کیا۔ بعض طلبہ نے الزام لگایا کہ مجموعی نمبرات میں بھی بے ضابطگیاں موجود ہیں۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد سی بی ایس ای نے بعض تکنیکی خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ درست جوابی کاپیاں طلبہ کے رجسٹرڈ ای میل ایڈریس پر بھیج دی جائیں گی۔ بورڈ نے طلبہ اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف سی بی ایس ای کی سرکاری معلومات پر بھروسہ کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ امتحانی نظام کی شفافیت اور طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



