جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کے خلاف سی بی آئی نے بدعنوانی کے ایک معاملہ میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ ان کے علاوہ 2 پرسنل سیکریٹری اور 4 دیگر افراد کو بھی اس معاملہ میں ملزم بنایا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق یہ معاملہ ’کیرو ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ‘ معاملہ میں بدعنوانی سے منسلک ہے، اُس وقت ستیہ پال ملک جموں و کشمیر کے گورنر تھے۔
CBI files charge sheet against former Jammu and Kashmir governor Satya Pal Malik and five others in Kiru hydropower corruption case: officials. pic.twitter.com/rEfnU6e800
— Press Trust of India (@PTI_News) May 22, 2025
واضح ہو کہ اپریل 2022 میں سی بی آئی نے اس معاملہ کی تحقیقات شروع کی تھی۔ ستیہ پال ملک نے بذات خود کئی انٹرویو اور پروگرامز میں الزام عائد کیا تھا کہ اس پروجیکٹ میں بدعنوانی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ گورنر تھے تو اس پروجیکٹ کی منظوری کے لیے انہیں رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔ یہی نہیں ان کا کہنا تھا کہ بعد میں ان کے پرسنل سیکرٹری نے بتایا کہ ان ڈیلز (سودے بازی) میں دوسرا معاملہ ہے اور اگر وہ منظوری دیتے ہیں تو ہر فائل پر 150 کروڑ روپے مل سکتے ہیں۔ 2 فائلیں تھیں تو 300 کروڑ کا آفر تھا۔
مذکورہ بالا معاملہ کے انکشاف کے بعد ہی سی بی آئی نے 20 اپریل 2022 کو مقدمہ درج کیا تھا۔ اس معاملہ میں چناب ویلی پاور پروجیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ، ایک پرائیویٹ کمپنی اور کچھ نامعلوم افراد کے خلاف معاملہ درج ہوا تھا۔ پھر یہ بات سامنے آئی کہ کیرو ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے ٹینڈر میں طریقۂ کار پر عمل نہیں ہوا۔ ایجنسی کے مطابق اسی وجہ سے اس معاملہ کی تحقیقات ستیہ پال ملک تک جا پہنچی تھی۔ واضح ہو کہ ستیہ پال ملک اس معاملہ پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں کہ ’’آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس نے بدعنوانی کے الزام عائد کیے ہوں، اسی کے خلاف تحقیقات ہونے لگے اور مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
