وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ نے بدھ کے روز اہم معدنیات (critical minerals) کی بازیافت اور پیداوار کے لیے 1,500 کروڑ روپے کے ترغیبی منصوبے کی منظوری دے دی۔ اس کا مقصد ثانوی ذرائع (secondary sources) جیسے کہ ای-ویسٹ اور بیٹری اسکریپ سے اہم معدنیات نکالنے کی ملکی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ یہ منصوبہ نیشنل کریٹیکل منرل مشن (NCMM) کے تحت شروع کیا جا رہا ہے تاکہ بھارت کی داخلی فراہمی کو مضبوط بنایا جا سکے اور سپلائی چین کے خطرات کم کیے جا سکیں۔ حکومت کے مطابق نئی کانوں اور بیرونِ ملک حصول میں وقت لگے گا، لہٰذا ری سائیکلنگ کو فوری متبادل کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔
منصوبے کی مدت اور دائرۂ کار
یہ اسکیم مالی سال 2025-26 سے 2030-31 تک چھ سال چلے گی۔ اس میں ای-ویسٹ، لیتھیم آئن بیٹری اسکریپ اور گاڑیوں کے پرزوں جیسے Catalytic Converters کی ری سائیکلنگ کو شامل کیا جائے گا۔ اس اسکیم سے بڑے اداروں کے ساتھ چھوٹے کاروبار اور اسٹارٹ اپس بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس کے بجٹ کا ایک تہائی چھوٹے کاروباروں کے لیے مختص ہے۔ یہ ترغیبات نئی ری سائیکلنگ یونٹس کے قیام کے ساتھ ساتھ موجودہ یونٹس کی توسیع اور جدیدکاری کو بھی سپورٹ کریں گی۔ صرف black mass بنانے والے نہیں، بلکہ اصل معدنیات نکالنے والے ری سائیکلرز اس کے لیے اہل ہوں گے۔
ترغیبی ڈھانچہ
Capex سبسڈی: مشینری، پلانٹ اور یوٹیلٹیز پر 20 فیصد سبسڈی اُن یونٹس کو ملے گی جو مقررہ مدت میں پیداوار شروع کریں گے۔ تاخیر کی صورت میں سبسڈی کم ہو جائے گی۔
Opex سبسڈی: یہ آپریٹنگ اخراجات پر ہوگی، جو پچھلے سال کی فروخت کی بنیاد پر دی جائے گی۔ دوسرے سال میں 40 فیصد اور پانچویں سال میں 60 فیصد سبسڈی دی جا سکتی ہے، بشرطے کہ فروخت کا ہدف پورا کیا جائے۔
سبسڈی کی حد
بڑے اداروں کے لیے: زیادہ سے زیادہ 50 کروڑ روپے
چھوٹے اداروں کے لیے: زیادہ سے زیادہ 25 کروڑ روپے
وہیں Opex سپورٹ کی حد بالترتیب 10 کروڑ اور 5 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
متوقع فوائد
حکومت کو امید ہے کہ اس اسکیم سے 270 کلوٹن سالانہ ری سائیکلنگ صلاحیت پیدا ہو گی، جس سے 40 کلوٹن اہم معدنیات ہر سال حاصل ہوں گی۔ اس منصوبے سے تقریباً 8,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 70,000 براہِ راست و بالواسطہ روزگار پیدا ہونے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



