Bharat Express DD Free Dish

Cabinet Approves Four Multi-Tracking Projects: کابینہ نے چار ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹس کو دی منظوری، کنیکٹیویٹی کو ملے گا فروغ: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے بدھ کے روز وزارتِ ریلوے کی تقریباً 9,450 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت والی چار ریلوے پروجیکٹس کو منظوری دے دی ہے۔

مرکزی حکومت نے ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت میں بڑا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کے روز ہونے والی مرکزی کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی کی میٹنگ میں ریلوے کی تقریباً 9,450 کروڑ روپے کی لاگت والی چار ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹس کو منظوری دی گئی۔ ان پروجیکٹس سے آندھرا پردیش، اوڈیشہ، تمل ناڈو اور مغربی بنگال کی ریلوے کنیکٹیویٹی پر براہِ راست اثر پڑے گا۔وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس فیصلے کی معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان پروجیکٹس سے بھارتی ریلوے کی گنجائش میں اضافہ ہوگا اور مسافروں کے ساتھ مال برداری کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اضافی ریلوے لائنیں بننے سے مصروف ریلوے روٹس پر دباؤ کم ہوگا اور ٹرینوں کی آمد و رفت پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہموار ہو سکے گی۔

کہاں کہاں بنیں گی نئی ریلوے لائنیں؟

منظور شدہ پروجیکٹس میں مغربی بنگال اور اوڈیشہ کے درمیان کھڑگپور-بھدرک (رانی تال) چوتھی لائن شامل ہے، جس کی لمبائی تقریباً 173 کلومیٹر ہوگی۔ اس کے علاوہ اوڈیشہ میں بھدرک-ہری داس پور کے درمیان 75 کلومیٹر طویل چوتھی لائن تعمیر کی جائے گی۔آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کے درمیان گمّیڈی پونڈی-گُڈور سیکشن میں تقریباً 90 کلومیٹر طویل تیسری اور چوتھی لائن تیار کی جائے گی۔ وہیں اوڈیشہ میں کٹک-پارادیپ (بڑابندھا) کے درمیان 72 کلومیٹر طویل تیسری اور چوتھی لائن کا کام کیا جائے گا۔ان چاروں پروجیکٹس سے ریلوے نیٹ ورک میں تقریباً 410 کلومیٹر کا اضافہ ہوگا۔ ان منصوبوں کا دائرہ چار ریاستوں کے آٹھ اضلاع تک پھیلا ہوگا۔

6,448 گاؤں اور 60 لاکھ افراد کو فائدہ

ان پروجیکٹس کا فائدہ صرف ریلوے مسافروں تک محدود نہیں رہے گا۔ حکومت کے مطابق نئی ریلوے لائنوں سے تقریباً 6,448 گاؤں کی کنیکٹیویٹی بہتر ہوگی اور تقریباً 60 لاکھ آبادی کو اس کا فائدہ ملنے کی امید ہے۔اضافی لائنیں بننے سے ان ریلوے روٹس پر ٹرینوں کی آمد و رفت کے لیے زیادہ گنجائش دستیاب ہوگی جہاں اس وقت ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہے۔ اس سے مسافر ٹرینوں کے آپریشن میں آسانی ہوگی اور مال گاڑیوں کے لیے بھی بہتر راستہ دستیاب ہو سکے گا۔ امید ہے کہ اس سے ٹرینوں کے وقت پر چلنے اور ریلوے کی مجموعی آپریشنل صلاحیت میں بہتری آئے گی۔

تجارت اور مال برداری کو بھی فائدہ

ان ریلوے روٹس کا استعمال کوئلہ، لوہے کی دھات، سیمنٹ، لوہا و اسٹیل، کنٹینر، گاڑیاں اور اناج جیسی بڑی مقدار میں منتقل ہونے والی اشیا کی نقل و حمل کے لیے ہوتا ہے۔ نئی لائنیں بننے کے بعد ریلوے کو ہر سال تقریباً 7.6 کروڑ ٹن اضافی مال برداری کی صلاحیت ملنے کا اندازہ ہے۔ اس کا اثر ملک کے لاجسٹکس نظام پر بھی پڑ سکتا ہے۔ سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے کئی معاملات میں ریل ٹرانسپورٹ سڑک کے مقابلے میں زیادہ کفایتی اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ایسے میں ریلوے کی صلاحیت بڑھنے سے تاجروں کے لیے نقل و حمل کا نظام آسان ہو سکتا ہے اور مال برداری کی لاگت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سیاحتی مقامات تک رسائی ہوگی آسان

نئے پروجیکٹس سے کئی اہم سیاحتی اور مذہبی مقامات کی ریلوے کنیکٹیویٹی بھی بہتر ہونے کی امید ہے۔ ان میں اوڈیشہ کا بھترکنیکا نیشنل پارک، کلڈیہا وائلڈ لائف سینکچری، پنچ لنگیشور مندر، چندی پور اور تال ساری-اُدے پور ساحل شامل ہیں۔اس کے علاوہ پُلی کٹ جھیل، نیل پٹو برڈ سینکچری، بھگوان ویرا راگھو پیرو مل مندر، سارلا مندر، دھابلیشور مندر اور للت گیری جیسے مذہبی و تاریخی مقامات کو بھی بہتر ریلوے رابطے کا فائدہ مل سکتا ہے۔ اس سے مقامی سیاحت کو فروغ ملنے اور چھوٹے کاروباروں کو بھی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

ماحولیات کے لحاظ سے بھی اہم پروجیکٹس

حکومت نے ان پروجیکٹس کو وزیر اعظم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت تیار کیا ہے۔ اس کا مقصد مختلف ذرائع نقل و حمل کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنا اور لوگوں و سامان کی آمد و رفت کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ریلوے کے مطابق ان پروجیکٹس سے ہر سال تقریباً 76 ملین ٹن اضافی مال برداری کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ سڑک پر مبنی ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں ریلوے کم توانائی استعمال کرتا ہے، اس لیے مال برداری کا کچھ حصہ سڑکوں سے ریلوے کی جانب منتقل ہونے سے ایندھن کی کھپت اور کاربن کے اخراج میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read