منگل کے روز کابینہ نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کا مقصد ایسے “آن لائن منی گیمز” پر پابندی لگانا ہے جن میں صارفین فیس ادا کرتے ہیں یا جیت کی امید پر رقم جمع کرواتے ہیں۔ اس بل میں ایسے افراد یا اداروں کے لیے تین سال قید یا ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے جو ایسے کھیلوں کو پیش کریں، فروغ دیں یا صارفین کو شرکت پر اکسانے میں ملوث ہوں — اس میں وہ بینک بھی شامل ہیں جو ایسی ٹرانزیکشنز کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔
بل کی اہم تفصیلات:
بل کا نام: Promotion and Regulation of Online Gaming Billبدھ کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔
بل کا مقصد:پیسوں والے آن لائن گیمز پر پابندی
ای-اسپورٹس اور سوشل آن لائن گیمز (جن میں پیسے شامل نہیں ہوتے) کو فروغ دینا
“آن لائن منی گیم” کی تعریف:ایسا کوئی بھی آن لائن کھیل جس میں صارف فیس، رقم یا کوئی داؤ اس امید پر لگاتا ہے کہ وہ جیتے گا۔
اشتہارات پر بھی پابندی:ایسے گیمز کے اشتہارات دینے والوں کو بھی 2 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانے یا دونوں کی سزا ہو سکتی ہے۔
بار بار خلاف ورزی پر:تین سال قید
10 سے 20 لاکھ روپے جرمانہ
اشتہارات دینے والے اداروں کو:2-3 سال قید اور
5-10 لاکھ روپے جرمانہ
دیگر اہم نکات:ریگولیٹری ادارہ قائم کیا جائے گا جو اس شعبے کی نگرانی کرے گا۔
بل کے مطابق اگر کوئی ادارہ یا فرد قانون کی خلاف ورزی کرے تو:پلیٹ فارمز کو بلاک کیا جا سکے گا۔
سینئر ایگزیکٹوز بھی ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں، اگر جرم ان کی رضامندی، غفلت یا ملی بھگت سے ہوا ہو۔
حکومت کے خدشات:
غیر قانونی آن لائن منی گیمز:
منی لانڈرنگ، کرپٹو کرنسی کے ذریعے غیر قانونی رقم کی منتقلی
ڈیٹا پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی
ٹیکس اور قانونی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش
نشے کی لت، ذہنی صحت کے مسائل، مالی نقصان اور خودکشیوں کے واقعات میں اضافہ
ریاستوں میں یکساں قانون نہ ہونے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشکلات
بل کا مقصد:
غیر ملکی پلیٹ فارمز پر انحصار کم کرنا
بھارتی اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی
ثقافتی طور پر ہم آہنگ ڈیجیٹل مواد کی تیاری
ڈیجیٹل خود انحصاری کو فروغ دینا
یہ قانون آن لائن گیمنگ کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد اور کمپنیوں کے لیے جو منی گیمز سے منسلک ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

