نئی دہلی : جن شکتی جنتا دل کے سربراہ اور بہار کے سابق وزیر تیج پرتاپ یادو نے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں طنزیہ انداز میں “شکریہ” کہا ہے۔ نیٹ (نیٹ) پیپر لیک معاملے پر طلبہ کے احتجاج میں شرکت کے بعد عدالتی تحویل میں بھیجے جانے پر تیج پرتاپ یادو نے سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ جیل بھیج کر حکومت نے انہیں عوام کے درمیان مزید مضبوطی سے کھڑا ہونے کا موقع دیا ہے۔تیج پرتاپ یادو نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، “بہار کے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کا شکریہ۔ آخرکار مجھے جیل بھیج کر آپ نے مجھے عوام کے درمیان اور زیادہ مضبوطی سے کھڑا ہونے کا موقع دیا، اس کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ جدوجہد سے گھبرانے والوں میں سے نہیں ہیں اور عوام کی آواز بلند کرنا ان کا فرض ہے۔ تیج پرتاپ نے لکھا، “میں جدوجہد سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔ عوام کی آواز اٹھانا میری ذمہ داری ہے اور میں ہمیشہ یہ ذمہ داری نبھاتا رہوں گا۔ یہ جدوجہد آئندہ بھی جاری رہے گی۔”تیج پرتاپ یادو کے اس بیان کے بعد بہار کی سیاسی فضا ایک بار پھر گرم ہوگئی ہے اور ان کا ردعمل سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔اپنی پوسٹ میں تیج پرتاپ نے ساون کے مقدس مہینے کی مبارکباد بھی دی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کو مخاطب کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا، “ساون کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ سمراٹ چودھری جی، ساون کے مہینے میں بھگوان بھولے ناتھ کو جل چڑھانا مت بھولیے گا اور پوری عقیدت کے ساتھ عبادت کرتے رہیے۔”
बिहार के मुख्यमंत्री सम्राट चौधरी जी को धन्यवाद।
आख़िरकार मुझे जेल भेजकर आपने मुझे जनता के बीच और मज़बूती से खड़ा होने का अवसर दिया। इसके लिए आपका बहुत-बहुत धन्यवाद।
मैं संघर्ष से डरने वाला नहीं हूँ। जनता की आवाज़ उठाना मेरा कर्तव्य है, और उसे हमेशा उठाता रहूँगा।
संघर्ष जारी… pic.twitter.com/IoX2tjWDoh
— Tej Pratap Yadav (@TejYadav14) July 30, 2026
واضح رہے کہ بہار میں نیٹ پیپر لیک معاملے کو لے کر طلبہ کے احتجاج کے دوران تیج پرتاپ یادو بھی مظاہرین کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ اس دوران پولیس نے انہیں گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا، جس کے بعد انہیں پٹنہ کی بیور جیل میں رکھا گیا۔ جیل سے رہائی کے بعد وہ مسلسل وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری اور ریاستی حکومت پر حملہ آور ہیں۔پولیس کے مطابق تیج پرتاپ یادو کے خلاف بہار بند اور احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ تشدد سے متعلق مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔فی الحال تیج پرتاپ یادو ضمانت پر جیل سے باہر آ چکے ہیں اور حکومت کے خلاف مسلسل بیانات دے رہے ہیں، جبکہ حکمراں اتحاد ان کے الزامات کو سیاسی بیان بازی قرار دے رہا ہے۔ بہار کی سیاست میں اس معاملے پر آنے والے دنوں میں مزید گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


