وزیر اعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کی صبح ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مرکزی بجٹ کے بعد منعقد ہونے والے ایک اہم ویبینار کا افتتاح اور خطاب کریں گے۔ ”وکست بھارت کے لیے ٹیکنالوجی، اصلاحات اور مالیات“ کے عنوان سے منعقد ہونے والا یہ پروگرام بجٹ 2026-27 کے نفاذ سے متعلق قومی سطح پر مشاورتی سلسلے کی پہلی کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور مالی استحکام کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ حکومتی حکام کے مطابق اس ویبینار کا بنیادی مقصد مرکزی بجٹ میں کیے گئے اعلانات کو عملی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے ماہرین، صنعتکاروں اور پالیسی سازوں کی آراء حاصل کرنا ہے۔ پروگرام کے دوران عوامی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی توسیع، بینکاری اصلاحات، مالیاتی نظم و نسق، کیپٹل مارکیٹ کی مضبوطی اور ٹیکس اصلاحات جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے۔
یہ ویبینار بجٹ کے بعد ہونے والی متعدد مشاورتی نشستوں کا آغاز ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ پچھلے برسوں کے تجربات سے سیکھتے ہوئے اس مرتبہ ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے زمین پر اتارنے کی ضرورت ہے۔ ویبینار میں حاصل ہونے والی تجاویز کو منظم انداز میں پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ بجٹ کے فوائد براہ راست عوام تک پہنچ سکیں۔ حکام کے مطابق اس پروگرام میں صنعتی شعبے کے نمائندے، مالیاتی اداروں کے ماہرین، مارکیٹ تجزیہ کار، سرکاری افسران، ریگولیٹری اداروں کے نمائندے اور تعلیمی ماہرین شریک ہوں گے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز مشترکہ طور پر اس بات پر غور کریں گے کہ بجٹ اعلانات کے مؤثر نفاذ کے لیے کن عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے حالیہ بجٹ میں 12.2 لاکھ کروڑ روپے کے کیپٹل اخراجات کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کو فروغ دینا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے انفراسٹرکچر رسک ڈیولپمنٹ فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ بڑی ترقیاتی اسکیموں کو تیزی سے مکمل کیا جا سکے۔ بجٹ میں شاہراہوں، بندرگاہوں، ریلوے نیٹ ورک اور توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سات اسٹریٹجک شعبوں میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور مسابقتی مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ایز) تیار کرنے کی حکمت عملی بھی شامل ہے، جس سے صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔
حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق عوامی سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ مالیاتی احتیاط اور مانیٹری استحکام کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ معیشت کی رفتار برقرار رہے۔ عالمی منڈیوں کے ساتھ بھارت کے اقتصادی روابط مضبوط بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور برآمدات بڑھانے کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔ بجٹ تخمینوں کے مطابق مالی سال 2026-27 میں مالیاتی خسارے کو مجموعی گھریلو پیداوار کے 4.3 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں یہ شرح 4.4 فیصد رہی تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی اقتصادی ترقی اور مالی استحکام کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے ملک کو طویل مدتی پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


