Bharat Express DD Free Dish

ICC T20 World Cup: بھارت-پاکستان ورلڈ کپ میچ تنازع پر جلد پیش رفت متوقع، آئی سی سی، پی سی بی اور بی سی بی کے درمیان لاہور میں اعلیٰ سطحی ملاقات

کرکٹ شائقین اور عالمی کرکٹ حلقے بھارت-پاکستان میچ کے حتمی فیصلے کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ یہ مقابلہ نہ صرف ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا میچ تصور کیا جاتا ہے بلکہ کمرشل، اسپورٹنگ اور سفارتی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

لاہور: بھارت اور پاکستان کے درمیان آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے مجوزہ میچ پر پیدا ہونے والے تنازع کے حل کی جانب جلد بڑی پیش رفت متوقع ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC)، پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کے اعلیٰ عہدیداران کے درمیان لاہور میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد اس مسئلے کو باہمی مشاورت کے ذریعے 24 گھنٹوں کے اندر حل کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے واضح رہنمائی حاصل کرے گا، جس کے بعد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

لاہور میں اہم اجلاس، متبادل روڈ میپ تیار

اتوار کو لاہور میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں آئی سی سی کے نائب چیئرمین عمران خواجہ، پی سی بی چیئرمین محسن نقوی اور بی سی بی صدر امین الاسلام نے شرکت کی۔ اس ملاقات میں 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول بھارت-پاکستان میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق، طویل مذاکرات کے بعد فریقین کے درمیان ایک روڈ میپ طے پا گیا ہے اور اگلے چند گھنٹوں میں اس تنازع کے حل کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔

بائیکاٹ کا پس منظر اور سیاسی رنگ

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان حکومت کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر اعلان کیا گیا کہ پاکستانی ٹیم 15 فروری کو بھارت کے خلاف میدان میں نہیں اترے گی۔ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کو بنگلہ دیش سے متعلق تنازع سے جوڑتے ہوئے یکجہتی کی علامت قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش کو ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر کر کے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا تھا، کیونکہ بنگلہ دیش کی جانب سے تمام میچ بھارت سے باہر کرانے کی درخواست آئی سی سی نے مسترد کر دی تھی۔ یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب کولکاتا نائٹ رائیڈرز کے فاسٹ بولر مصطفیٰ الرحمٰن کو بی سی سی آئی کی ہدایت پر اسکواڈ سے نکال دیا گیا، جس کی وجہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر مبینہ مظالم سے متعلق خدشات بتائی گئی۔

آئی سی سی کی پی سی بی سے وضاحت طلب

ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق، آئی سی سی نے پی سی بی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واضح کرے کہ اس نے ’فورس ماژور‘ کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں، کیونکہ ممبرز پارٹیسپیشن ایگریمنٹ (MPA) کے تحت یہ وضاحت ضروری ہے۔ آئی سی سی کو پی سی بی کی جانب سے ای میل موصول ہوئی تھی جس میں حکومتی احکامات کو بائیکاٹ کی وجہ بتایا گیا تھا، حالانکہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں دس دن سے بھی کم وقت باقی تھا۔ آئی سی سی نے پی سی بی کو آگاہ کیا کہ اگر یہ میچ منسوخ ہوا تو ادارے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ تاہم آئی سی سی تصادم نہیں چاہتی، لیکن اپنے آئین کے تحت سنگین خلاف ورزی کی صورت میں رکنیت معطل یا ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

پی سی بی کا قانونی مؤقف اور پرانا تنازع

پی سی بی کا ماننا ہے کہ اگر یہ معاملہ تنازع کی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے پاس مضبوط قانونی بنیاد موجود ہے، کیونکہ اس سے قبل پی سی بی اور بی سی سی آئی کے درمیان دو طرفہ سیریز کے تنازع پر کیس آئی سی سی ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی تک پہنچا تھا۔ یہ معاملہ 2014 کے اس مفاہمتی معاہدے (MoU) سے جڑا تھا جس کے تحت بھارت اور پاکستان کو 2013 سے 2015 کے درمیان چھ دو طرفہ سیریز کھیلنی تھیں۔ اگرچہ اس کیس میں پی سی بی کو ہرجانے کا دعویٰ نہیں ملا، تاہم بورڈ کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی اجازت نہ ملنے کی مثال اب ان کے حق میں نظیر بن سکتی ہے۔ کرکٹ شائقین اور عالمی کرکٹ حلقے بھارت-پاکستان میچ کے حتمی فیصلے کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ یہ مقابلہ نہ صرف ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا میچ تصور کیا جاتا ہے بلکہ کمرشل، اسپورٹنگ اور سفارتی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read