Bharat Express DD Free Dish

KAAD kills 9 Pakistani Security Personnel: بی ایل ایف کے نئے خواتین دستے نے پاکستانی فورسز کے 9 اہلکاروں کو کیا ہلاک، بلوچستان لبریشن فرنٹ کا دعویٰ

ترجمان کے مطابق بی ایل ایف کی قربان یونٹ نے بھی اس کارروائی میں کے اے اے ڈی کا ساتھ دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فورسز نے دونوں دستوں کو گھیرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے مقابلہ کرتے ہوئے محفوظ واپسی کی۔

کوئٹہ: بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم کے نئے خواتین دستے ’کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن‘ (کے اے اے ڈی) کے حالیہ حملوں میں پاکستانی فوج کے 9 اہلکار مارے گئے ہیں۔

تربت کے قریب قافلے پر حملے کا دعویٰ

بلوچستان پوسٹ کے مطابق، بی ایل ایف کے ترجمان میجر گوہرام بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ 22 ستمبر کو تربت کے قریب جوشک علاقے میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) شاہراہ پر تین گاڑیوں پر مشتمل کوئیک رسپانس فورس (کیو آر ایف) کے قافلے پر کے اے اے ڈی نے حملہ کیا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں 6 فوجی اہلکار مارے گئے اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔

قربان یونٹ نے بھی کارروائی میں دیا ساتھ

ترجمان کے مطابق بی ایل ایف کی قربان یونٹ نے بھی اس کارروائی میں کے اے اے ڈی کا ساتھ دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فورسز نے دونوں دستوں کو گھیرنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے مقابلہ کرتے ہوئے محفوظ واپسی کی۔ حملے میں متعدد فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس دوران قربان یونٹ کا ایک جنگجو چاکر مراد عرف دلیپ جان بھی مارا گیا۔

منگچر میں تین مقامات پر ناکہ بندی کا دعویٰ

گوہرام بلوچ نے دعویٰ کیا کہ کے اے اے ڈی نے بلوچستان کے قلات ضلع کی منگچر تحصیل میں کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر تین مقامات پر ناکہ بندی کی۔ منگچر بازار کی جانب سے بکتر بند گاڑی اور دو دیگر گاڑیوں میں پہنچنے والی پاکستانی فورسز پر حملہ کیا گیا، جس میں دو فوجی اہلکار مارے گئے۔

ایک اور جھڑپ میں ایک اہلکار کی ہلاکت کا دعویٰ

تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس دوران متعدد فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ بیان کے مطابق پاکستانی فورسز نے جنگجوؤں کو گھیرنے کی کوشش کی، جس کے بعد ایک اور جھڑپ ہوئی۔ اس میں ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار کے مارے جانے اور کئی دیگر کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بی آر اے کا ڈیرہ بگٹی میں حملے کا دعویٰ

ایک اور واقعے میں بلوچستان ریپبلکن آرمی (بی آر اے) نے بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی ضلع کے بہہ لوٹی علاقے میں ماری انرجی لمیٹڈ کے ایک ٹھکانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ بلوچستان پوسٹ نے تنظیم کے ترجمان سرباز بلوچ کے حوالے سے بتایا کہ راکٹ اور بھاری ہتھیاروں سے کیے گئے اس حملے میں کمپنی کے 3 ملازمین مارے گئے اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔

پاکستانی فورسز سے جھڑپ میں ہلاکتوں کا دعویٰ

سرباز بلوچ نے دعویٰ کیا کہ حملے کے بعد پاکستانی فورسز اور ایک ایسے گروپ کے ارکان کے درمیان جھڑپ ہوئی جسے تنظیم مقامی سطح پر حکومت کے حمایت یافتہ مسلح گروپ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ بی آر اے نے دعویٰ کیا کہ اس جھڑپ میں 9 پاکستانی فوجی اہلکار اور مسلح گروپ کے 3 ارکان مارے گئے۔ تنظیم کے مطابق، اس کے 6 جنگجو بھی مارے گئے۔

بی آر جی کا حاجی شہر پر قبضے کا دعویٰ

اس دوران بلوچستان ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے حاجی شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا اور وہاں ایک پولیس اسٹیشن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ تنظیم کے مطابق بی آر اے کے جنگجو ایری شہر میں داخل ہوئے، سرکاری عمارتوں پر قبضہ کیا اور کارروائی مکمل کرنے کے بعد وہاں سے نکل گئے۔

بلوچستان میں مسلح حملوں میں حالیہ دنوں میں تیزی

ان واقعات کے درمیان بلوچستان میں پاکستانی فوج اور پولیس کو نشانہ بنانے والے مسلح گروپوں کے حملوں میں حالیہ دنوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ ان حملوں میں فوجی و سکیورٹی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

بی آر جی کا حکومت حمایت یافتہ گروپ پر حملے کا دعویٰ

بلوچستان پوسٹ کے مطابق، بدھ کے روز بی آر جی نے کچھی ضلع کے کچھی قلندر علاقے میں ایک مسلح گروپ پر حملے کا دعویٰ کیا تھا۔ بی آر جی نے اس تنظیم کو حکومت کا حمایت یافتہ ’ڈیتھ اسکواڈ‘ قرار دیا۔

بی آر جی کے ترجمان دوستین بلوچ نے کہا، ’’معمول کی گشت کے دوران ہمارے جنگجوؤں کا اس گروپ کے ارکان سے سامنا ہوا۔ مسلح افراد نے جنگجوؤں کی نقل و حرکت روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد حملہ کیا گیا۔ متعلقہ افراد موقع سے فرار ہو گئے اور اپنے ہتھیار وہیں چھوڑ گئے۔‘‘

واضح رہے کہ مذکورہ ہلاکتوں، حملوں اور نقصانات سے متعلق زیادہ تر تفصیلات مسلح گروپوں کے دعووں اور بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read