Bharat Express DD Free Dish

BJP Delhi CM: دہلی کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں 27 سال پرانی غلطی کو نہیں دہرائے گی بی جے پی

بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے مبصرین کا تقرر کر دیا گیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب جمعرات (20 فروری 2025) کو ہوگی اور دہلی کو نیا وزیر اعلیٰ ملے گا۔

امت شاہ، جے پی نڈا اور وزیر اعظم نریندر مودی

BJP Delhi CM: دہلی اسمبلی انتخابات 2025 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کیے دس دن سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے مبصرین کا تقرر کر دیا گیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب جمعرات (20 فروری 2025) کو ہوگی اور دہلی کو نیا وزیر اعلیٰ ملے گا۔

دو دہائیوں سے زیادہ کے بعد بھگوا پارٹی کی دہلی میں واپسی ہوئی ہے۔ بی جے پی پہلی بار 1993 کے اسمبلی انتخابات میں دہلی میں اقتدار میں آئی تھی۔ اس وقت رام مندر تحریک کی لہر میں پارٹی نے یک طرفہ جیت حاصل کی تھی اور مدن لال کھرانہ دہلی کے پہلے بی جے پی وزیر اعلیٰ بنے۔ تاہم اس دوران پارٹی کو چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی کو اپنے 5 سالہ دور میں تین بار وزیر اعلیٰ تبدیل کرنا پڑے تھے۔

بی جے پی کو کب اور کیوں تبدیل کرنے پڑے وزرائے اعلیٰ؟

1993 میں، بی جے پی نے مدن لال کھرانہ کو دہلی کا وزیر اعلیٰ مقرر کیا، لیکن ہوالہ اسکینڈل میں ملوث ہونے کے الزامات کی وجہ سے ان کی مدت کار مختصر رہی۔ 1996 میں انہیں استعفیٰ دینا پڑا اور صاحب سنگھ ورما نئے وزیر اعلیٰ بنے لیکن انہیں بھی پیاز کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے 1998 کے انتخابات سے چند ماہ قبل یہ عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد سشما سوراج نے بی جے پی کی تیسری وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا، لیکن اس کے بعد کے انتخابات میں پارٹی کی خراب کارکردگی کی وجہ سے وہ واپسی نہیں کرسکی اور کانگریس اقتدار میں آئی۔ کانگریس نے نہ صرف 1998 میں بی جے پی سے اقتدار چھین لیا بلکہ لگاتار 15 سال تک حکومت کی۔

یہ بھی پڑھیں- Punjab Government: پنجاب حکومت کا کرپشن کے خلاف بڑا ایکشن، 52 پولیس اہلکار برطرف

تو کیا اسی وجہ سے بی جے پی وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں کر رہی ہے تاخیر؟

دراصل، 1993 میں، جب بی جے پی نے دہلی میں پہلی بار حکومت بنائی تھی، اس نے 70 میں سے 49 اسمبلی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور 27 سال تک اقتدار سے باہر رہنے کے بعد، بی جے پی نے ایک بار پھر واپسی کی ہے اور 48 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ دریں اثنا، سیاسی پنڈتوں نے پارٹی کو 90 کی دہائی کے بعد سے درپیش چیلنجوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک صاف ستھری شبیہ والے امیدوار کو منتخب کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پارٹی ایسی صورت حال سے بچنا چاہتی ہے جہاں بی جے پی کو 1993 سے 1998 تک وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنا پڑے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ نام طے کرنے میں بی جے پی اتنا وقت لے رہی ہے۔

-بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read