Bharat Express DD Free Dish

Jagdambika Pal pays tribute to Moulvi Muhammad Baqir: ’’آنے والی نسلوں کے لیے مثال ہیں مولوی محمد باقر…‘‘ بی جے پی لیڈر جگدمبیکا پال نے ملک کے پہلے شہید صحافی کو پیش کیا خراج عقیدت

لوک سبھا ایم پی جگدمبیکا پال نے کہا کہ ایسے بہت سے صحافی اور نامہ نگار ہیں جو اپنے فرض کو انجام دیتے ہوئے اپنی جان کی قربانی بھی دے دیتے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ شاید یہ سلسلہ، شاید یہ زندگی کا جذبہ، کم سے کم قلم کا ہو، اس قلم کو تلوار بنا لے، تمام برائیوں سے لڑنے کے لیے اور اپنی جان کی پرواہ نہ کرے، برطانیہ حکومت کی گولی کو بھی اور پھانسی کا پھندا بھی چوم لے، ایسے صحافی کو ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، سلام کرتے ہیں۔

بی جے پی لیڈر جگدمبیکا پال نے مولوی محمد باقر کو خراج عقیدت پیش کیا۔

نئی دہلی: بھارت ایکسپریس اردو کی جانب دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر میں منگل (16 ستمبر) کی شام اردو کے ممتاز صحافی مولوی محمد باقر کی یاد میں ایک شاندار تقریب ’بزمِ صحافت‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں سابق وزیر خارجہ اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سلمان خورشید، راجیہ سبھا کے سابق رکن اور سینئر صحافی شاہد صدیقی، قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ کمیشن (این سی ایم ای آئی) کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر، جامعہ ہمدرد کے رجسٹرار کرنل طاہر مصطفیٰ, سینئر بی جے پی لیڈر اور ایم پی جگدمبیکا پال سمیت کئی بڑی شخصیت شامل ہوئیں۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے ملک کے پہلے شہید صحافی مولوی محمد باقر کو یاد کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔

 

لوک سبھا ایم پی نے کہا کہ ایسے بہت سے صحافی اور نامہ نگار ہیں جو اپنے فرض کو انجام دیتے ہوئے اپنی جان کی قربانی بھی دے دیتے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ شاید یہ سلسلہ، شاید یہ زندگی کا جذبہ، کم سے کم قلم کا ہو، اس قلم کو تلوار بنا لے، تمام برائیوں سے لڑنے کے لیے اور اپنی جان کی پرواہ نہ کرے، برطانیہ حکومت کی گولی کو بھی اور پھانسی کا پھندا بھی چوم لے، ایسے صحافی کو ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، سلام کرتے ہیں۔ انہوں نے جو حوصلہ اور جذبہ دیا، وہ آج ایک روشنی ہے، ٹارچ ہے اور پورے ملک کے لیے، آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ ایک مثال رہیں گے۔

بی جے پی لیڈر نے کہا کہ اگر ہم آج ان (مولوی محمد باقر) کو جمع ہوکر خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں، تو صرف ان کی شخصیت کو ہم یاد نہیں کر رہے ہیں، ان کی شخصیت سے زیادہ جن اصولوں کو یاد کرتے ہیں۔ اس وقت برطانیہ حکومت میں، دہلی ہو  یا ملک کا مختلف حصہ ہو، جن کی حیثیت تھی کہ وہ برطانی حکومت سے دو ہاتھ کر سکتے تھے، ٹکرا سکتے تھے، سرمایہ تھا، ان کے پاس پولیس تھی، فوج تھی، ایسے لوگ اس وقت ’رائے بہادر‘ کا خطاب لے رہے تھے، ایسے لوگ انگریز سے ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے کی جگہ، جنگ آزادی میں شہادت دینے کی جگہ، وکٹوریہ سے رائے بہادر کا خطاب پا کر خوش ہو رہی تھی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read