Bharat Express DD Free Dish

Bihar Muzaffarpur News: مظفرپور میں پولیس اور مقامی افراد کے درمیان پرتشدد جھڑپ، فائرنگ سے ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کانتیش کمار مشرا نے بتایا کہ پولیس عدالت کے حکم پر چھاپہ مار کارروائی کر رہی تھی، لیکن اچانک ہجوم نے جان لیوا حملہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالات کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو ہوائی فائرنگ کرنی پڑی، تاہم مقامی افراد کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی۔

مظفرپور: بہار کے ضلع مظفرپور میں پولیس اور مقامی افراد کے درمیان پرتشدد جھڑپ کے دوران ایک شخص کی موت اور کئی افراد کے زخمی ہونے کی خبر نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ یہ واقعہ گائگھاٹ تھانہ حلقہ کے اسیہ گاؤں میں منگل کی دیر رات اس وقت پیش آیا جب پولیس ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے پہنچی تھی۔ اطلاعات کے مطابق پولیس ٹیم پاسکو ایکٹ کے ایک ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے عدالت کے حکم پر گاؤں میں داخل ہوئی تھی۔ جیسے ہی پولیس نے کارروائی شروع کی، گاؤں کے کچھ لوگ اس کی مخالفت میں سامنے آ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ مشتعل ہجوم نے پولیس پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں حالات قابو سے باہر ہو گئے۔

پولیس حکام کے مطابق بھیڑ نے نہ صرف پولیس ٹیم کو گھیر لیا بلکہ ان کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اس دوران دو سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ حملے میں گائگھاٹ تھانے کے انچارج سمیت تین پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کانتیش کمار مشرا نے بتایا کہ پولیس عدالت کے حکم پر چھاپہ مار کارروائی کر رہی تھی، لیکن اچانک ہجوم نے جان لیوا حملہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حالات کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو ہوائی فائرنگ کرنی پڑی، تاہم مقامی افراد کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی۔

اسی دوران فائرنگ کی زد میں آ کر 60 سالہ جگت ویر رائے نامی شخص کو گولی لگی، جس کے باعث ان کی موت ہو گئی۔ ان کی ہلاکت کے بعد گاؤں میں مزید کشیدگی پھیل گئی اور لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ دیہی پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ڈی ایس پی مشرقی خود موقع پر کیمپ کر رہے ہیں تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔ حساس علاقوں میں فلیگ مارچ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ امن و امان بحال رہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ واقعہ نہ صرف قانون و انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے بلکہ اس نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی لوگ خوفزدہ ہیں اور انتظامیہ سے جلد از جلد حالات معمول پر لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read