بہار قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) سے بی جے پی کے رکن دیویش کمار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ قدم پنچایتی راج کے وزیر دیپک پرکاش کے لیے قانون ساز کونسل کی نشست خالی کرنے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔ دیپک پرکاش وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی کابینہ میں وزیر ہیں، لیکن اب تک وہ اسمبلی یا قانون ساز کونسل، کسی بھی ایوان کے رکن نہیں بن سکے ہیں۔
آئینی بحران سے بچنے کی کوشش
بھارتی آئین کے مطابق کسی بھی وزیر کے لیے حلف لینے کے بعد چھ ماہ کے اندر اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن بننا لازمی ہوتا ہے۔ دیپک پرکاش کے معاملے میں یہ مدت پوری ہونے والی تھی، جس کے باعث ان کے وزارتی عہدے پر آئینی بحران کے بادل منڈلا رہے تھے۔ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا تھا اور عدالت نے حکومت سے اس پر جواب طلب کیا تھا۔ اسی دوران بی جے پی نے اپنے ایم ایل سی دیویش کمار سے استعفیٰ دلوا کر دیپک پرکاش کے لیے راستہ صاف کر دیا۔
سپریم کورٹ کی سخت ریمارکس
حال ہی میں سپریم کورٹ نے بہار حکومت سے سوال کیا تھا کہ دیپک پرکاش بغیر منتخب ہوئے چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک وزیر کیسے رہ سکتے ہیں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا تھا کہ یہ قانون سے متعلق ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور ریاستی حکومت کو اس پر واضح جواب دینا ہوگا۔ عدالت نے اس کیس کی اگلی سماعت کے لیے 4 اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔
آئین کے آرٹیکل 164(4) کی شرط
بھارتی آئین کے آرٹیکل 164(4) کے مطابق کوئی بھی شخص ایوان کا رکن بنے بغیر زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک وزیر رہ سکتا ہے۔ اگر وہ اس مدت کے دوران کسی ایوان کا رکن نہ بن سکے تو اسے وزارت چھوڑنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے لیے دیپک پرکاش کو قانون ساز کونسل کا رکن بنانا ضروری ہو گیا تھا۔
وزارتی حلف اور موجودہ صورتحال
دیپک پرکاش نے پہلی مرتبہ 21 نومبر 2025 کو وزیر کی حیثیت سے حلف لیا تھا اور تقریباً پانچ ماہ تک پنچایتی راج کے وزیر رہے۔ بعد ازاں 7 مئی 2026 کو سمراٹ چودھری کی نئی حکومت میں انہیں دوبارہ وزیر بنایا گیا، تاہم اس بار بھی وہ کسی ایوان کے رکن نہیں بن سکے، جس سے آئینی پیچیدگی پیدا ہو گئی۔
سیاسی ہلچل تیز
بی جے پی کے ایم ایل سی دیویش کمار کا استعفیٰ اس پورے تنازع کے حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب ان کی خالی ہونے والی نشست سے دیپک پرکاش کو بہار قانون ساز کونسل بھیجے جانے کا امکان ہے۔ اس کے بعد نہ صرف ان کی وزارت برقرار رہے گی بلکہ حکومت پر منڈلاتا آئینی بحران بھی ٹل جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




