بہار کے گوپال گنج ضلع میں جمعرات کو اس وقت فلم “شعلے” جیسا منظر دیکھنے کو ملا جب اپنے عاشق کی گرفتاری سے ناراض ایک نوجوان لڑکی تقریباً 100 فٹ اونچے موبائل ٹاور پر چڑھ گئی اور کئی گھنٹوں تک ہائی وولٹیج ڈرامہ جاری رہا۔ یہ واقعہ بھورے تھانہ علاقے کے بنکٹا جاگیرداری گاؤں کا بتایا جا رہا ہے۔
عاشق کو حراست میں لیا گیا
اطلاعات کے مطابق گاؤں کی رہنے والی ارپیتا کا اپنے ہی گاؤں کے نوجوان پون چوہان کے ساتھ محبت کا رشتہ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ جمعرات کی رات ارپیتا اچانک اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی۔ کافی دیر تک تلاش کے باوجود جب وہ نہیں ملی تو اہلِ خانہ نے اس کی شکایت پولیس میں درج کرا دی۔ اہلِ خانہ کی شکایت پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پون چوہان کو حراست میں لے لیا۔
‘شعلے’ کی طرح ٹاور پر چڑھ گئی
اپنے عاشق کی گرفتاری کی خبر ملتے ہی ارپیتا ناراض ہو گئی اور گاؤں کے قریب واقع تقریباً 100 فٹ اونچے موبائل ٹاور پر چڑھ گئی۔ ٹاور پر لڑکی کو چڑھتا دیکھ گاؤں میں افرا تفری مچ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں لوگوں کی بڑی بھیڑ جمع ہو گئی۔ ٹاور پر چڑھی نوجوان لڑکی مسلسل یہ مطالبہ کر رہی تھی کہ اس کے عاشق پون کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور دونوں کی شادی کرا دی جائے۔
پولیس کا انوکھا طریقہ
واقعے کی اطلاع ملتے ہی بھورے تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لڑکی کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نیچے اترنے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اس کے بعد پولیس نے ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا۔ پولیس نے حراست میں لیے گئے پون چوہان کو ہتھکڑی لگی حالت میں جیپ کے ذریعے ٹاور کے پاس لا کر کھڑا کر دیا۔ اپنے عاشق کو سامنے دیکھ کر ارپیتا کچھ پرسکون ہوئی اور کافی سمجھانے بجھانے کے بعد وہ محفوظ طریقے سے ٹاور سے نیچے اتر آئی۔ اس کے بعد پولیس نے اسے اپنی تحویل میں لے کر تھانے پہنچا دیا۔ بھورے تھانہ پولیس کے مطابق لڑکی کو بحفاظت نیچے اتار لیا گیا ہے اور دونوں فریقین کو بلا کر معاملے میں صلح کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ آئندہ قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
