Bharat Express DD Free Dish

Big relief to Tamil Nadu government: تمل ناڈو حکومت کو بڑی راحت، سپریم کورٹ نے ’انگلودن اسٹالن یوجنا’‘ پر مدراس ہائی کورٹ کے حکم کو کیا منسوخ

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے جرمانہ ایک ہفتے میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اسے توہین عدالت سمجھا جائے گا۔

تمل ناڈو حکومت کو بڑی راحت

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز تمل ناڈو حکومت کو ’انگلودن اسٹالن یوجنا‘ کے سلسلے میں بڑی راحت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا، جس میں سرکاری فلاحی اسکیموں کے اشتہارات میں وزرائے اعلیٰ اور سیاست دانوں کی تصاویر کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے اے آئی اے ڈی ایم کے ایم پی سی وی شانموگم پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے سیاسی لڑائی کے لیے عدالت کا غلط استعمال کیا۔ اگر درخواست گزار کو فنڈز کے غلط استعمال سے پریشان تھی تو اسے ایسی تمام اسکیموں کو چیلنج کرنا چاہئے تھا، نہ کہ صرف ایک فریق کے خلاف۔

مدراس ہائی کورٹ نے لگائی تھی پابندی

اے آئی اے ڈی ایم کے ایم پی سی وی شانموگم نے مدراس ہائی کورٹ میں ’انگلودن اسٹالن یوجنا‘ کے بارے میں عرضی داخل کی تھی۔ مدراس ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو فلاحی اسکیموں میں موجودہ اور سابق وزرائے اعلیٰ کے نام اور تصاویر کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی۔

الیکشن کمیشن کے عمل کو کیا گیا نظر انداز

عدالت نے برہمی کا اظہار کیا کہ درخواست گزار نے الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرنے کے صرف تین دن بعد ہی کمیشن کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر عدالت میں درخواست دائر کردی۔ اس سے الیکشن کمیشن کے عمل کو نظر انداز کیا گیا۔ تمل ناڈو حکومت کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ اس سے قبل بھی کئی سرکاری اسکیموں میں سیاستدانوں کے نام اور تصاویر کا استعمال کیا جا چکا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ’کامن کاز‘ معاملے میں وزیر اعظم، صدر، سی جے آئی اور وزیر اعلیٰ کی تصویروں کو اشتہارات میں استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

درخواست گزار پر لگا 10 لاکھ روپے کا جرمانہ

ایڈوکیٹ پی ولسن نے میڈیا کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے تمل ناڈو حکومت کی خصوصی عرضی پر اہم فیصلہ دیا۔ یہ عرضی مدراس ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف تھی، جس میں سرکاری اسکیموں میں وزیر اعلیٰ کے نام کے استعمال کو روکا گیا تھا۔ حکومت کی نیک نیتی تھی کہ فلاحی اسکیموں کا فائدہ تمل ناڈو کے ہر گھر تک پہنچے اور یہی وجہ تھی کہ اسٹالن حکومت کی اسکیموں کے خلاف عرضی دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو ’سیاسی طور پر محرک‘ سمجھا اور ہائی کورٹ کی عرضی کو خارج کر دیا۔ عدالت نے درخواست گزار پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

’’ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنا غلط تھا‘‘

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ عدالتوں کو سیاسی لڑائیاں طے کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے، ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنا غلط تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اتنی عجلت میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد درخواست گزار نے مسلسل خلاف ورزی کرنے کی ہمت کی ہے۔ الیکشن کمیشن کو سماعت کا موقع نہ دے کر اور الیکشن کمیشن پر کارروائی میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے درخواست گزار نے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی ہے۔

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے جرمانہ ایک ہفتے میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اسے توہین عدالت سمجھا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read