Bharat Express DD Free Dish

آبائی جائیداد کیس میں سیف علی خان کو بڑی راحت، سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی

سپریم کورٹ نے بھوپال کے نواب حمید اللہ خان کی جائیداد سے متعلق تنازعہ میں سیف علی خان اوران کے خاندان کوبڑی راحت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پرحکم امتناعی جاری کرتے ہوئے نوٹس جاری کردیا۔ یہ تنازعہ نواب کی وراثت اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق ہے، جس میں پٹودی خاندان اپنی وراثت پرحق کا دعویٰ کررہا ہے۔

بالی ووڈ اسٹار سیف علی خان۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: بالی ووڈ اداکارسیف علی خان اوران کے اہل خانہ کوسپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ جمعہ کے روزسپریم کورٹ نے بھوپال کے آخری حکمران نواب حمید اللہ خان کی ذاتی جائیداد سے متعلق تنازعہ کونئی سماعت کے لئے نچلی عدالت میں واپس بھیجنے کے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف دائردرخواست کی سماعت کی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پرروک لگا دی۔

رواں برس جولائی میں ہائی کورٹ نے اداکارسیف علی خان، ان کی بہنوں سوہا صبا اور والدہ شرمیلا ٹیگورکوجائیداد کا وارث تسلیم کرنے کے نچلی عدالت کے حکم کومسترد کردیا تھا۔ اس کے بعد سیف علی خان کے خاندان کی جانب سے ہائی کورٹ کے حکم کوسپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، جہاں جسٹس پی ایس نرسمہا اورجسٹس اتل چندورکرکی بنچ نے ہائی کورٹ کے حکم پرروک لگاتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے۔

15 ہزارکروڑکے آس پاس ہے جائیداد کی قیمت

پٹودی فیملی کی طرف سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے مدھیہ پردیش میں تقریباً 15 ہزار کروڑ روپئے قیمت کی کئی شاہی جائیدادوں پر اپنی واحد وراثت کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرائل کورٹ نے سیف علی خان، ماں شرمیلا ٹیگور اوران کی بہنوں کو جائیدادوں کا مالک مانا تھا، جس حکم کو ہائی کورٹ نے منسوخ کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو پھر سے سماعت کرکے ایک سال کے اندر معاملے کا نمٹارہ کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

کیا ہے پورا تنازعہ اور کیا ہے مطالبہ؟

دراصل، پورا معاملہ نواب حمیداللہ سے جڑا ہوا ہے، جو بھوپال ریاست کے آخری حکمراں تھے۔ ان کی تین بیٹیوں میں سے ایک ساجدہ نے افتخارعلی خان پٹودی سے شادی کی جبکہ ان کے بیٹے منصورعلی خان پٹودی نے شرمیلا ٹیگورسے شادی کی۔ پٹودی ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بھی رہے تھے۔

مسلم پرسنل لا کے مطابق چاہتے ہیں تنازعہ کا حل

نواب حمید اللہ کی بڑی بیٹی جن کا نام عابدہ تھا، پاکستان چلی گئیں، جس کے بعد ساجدہ جائیداد کی مالک بن گئیں۔ جائیداد کے تنازعہ سے متعلق عدالت میں دو اپیلیں دائرکی گئیں۔ پہلی اپیل بیگم ثریا راشد اوردوسری نواب مہرتاج ساجد سلطان نے دائرکی تھی۔ جب ٹرائل کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا تواپیل کنندگان نے اس فیصلے کوغیرمنصفانہ قراردیتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لا کے مطابق، جائیدادوں کی تقسیم ہونی چاہئے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read