بہار کے مغربی چمپارن (بیتیا) کی سیاست میں اس وقت بڑا ہنگامہ برپا ہو گیا جب بیتیا سول کورٹ نے ’’جن سوراج‘‘ کے بانی پرشانت کشور کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم جاری کر دیا۔ یہ معاملہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور بیتیا سے چار مرتبہ رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہونے والے ڈاکٹر سنجے جیسوال کی مبینہ ہتکِ عزت سے متعلق ہے۔ عدالت نے گواہوں کے حلفیہ بیانات اور گواہی سننے کے بعد اس ہائی پروفائل کیس میں پرشانت کشور کو اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے طلب کیا ہے۔
’’ٹوٹ پونجیا لیڈر‘‘ اور پٹرول پمپ تنازع
ڈاکٹر سنجے جیسوال کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کے مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پرشانت کشور نے جان بوجھ کر عوامی جلسوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی سیاسی اور سماجی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ عدالت میں پیش ہونے والے ایک گواہ نے حلفیہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ 26 اگست 2025 کو کوریا کوٹھی کے قریب پرشانت کشور کے ایک جلسے کے دوران انہوں نے ڈاکٹر سنجے جیسوال کو عوامی طور پر ’’ٹوٹ پونجیا نیتا‘‘ قرار دیا۔ الزام یہ بھی ہے کہ پرشانت کشور نے دعویٰ کیا تھا کہ رکنِ پارلیمنٹ نے اپنے ذاتی پٹرول پمپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے چھاؤنی اوور برج کا الائنمنٹ تبدیل کروایا تھا۔
’’ٹوٹ پونجیا نیتا‘‘ اور پٹرول پمپ تنازع
ڈاکٹر سنجے جیسوال کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کے مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پرشانت کشور نے جان بوجھ کر عوامی جلسوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی سیاسی اور سماجی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ عدالت میں پیش ہونے والے ایک گواہ نے حلفیہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ 26 اگست 2025 کو کوریا کوٹھی کے قریب پرشانت کشور کے ایک جلسے کے دوران انہوں نے ڈاکٹر سنجے جیسوال کو عوامی طور پر ’’ٹوٹ پونجیا نیتا‘‘ قرار دیا۔
اب پرشانت کشور کو دینا ہوگا جواب
سماعت کے دوران عدالت نے گواہ سے متعدد سوالات کیے اور اس کا بیان ریکارڈ کیا۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دوسرے فریق کا مؤقف سننا ضروری قرار دیا ہے۔اسی بنا پر ’’جن سوراج‘‘ کے بانی پرشانت کشور کو عدالت میں حاضر ہو کر اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب پورے بہار کی نظریں اس مقدمے کی اگلی سماعت پر مرکوز ہیں کہ پرشانت کشور اپنے دفاع میں کیا دلائل پیش کرتے ہیں اور عدالت اس معاملے میں آئندہ کیا موقف اختیار کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


