عید الاضحیٰ سے پہلے مغربی بنگال حکومت نے جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق نئے قوانین نافذ کر دیے ہیں۔ اب کسی بھی عوامی مقام یا سڑک کنارے جانور ذبح کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ذبیحہ صرف منظور شدہ مذبح خانوں میں ہی کیا جا سکے گا۔
قربانی کے لیے سرٹیفکیٹ لازمی
گائے، بھینس، بیل اور بچھڑے کی قربانی کے لیے اب ایک خصوصی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ میونسپلٹی یا پنچایت کمیٹی کے صدر اور سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر کی مشترکہ منظوری سے جاری کیا جائے گا۔ اگر کوئی افسر سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کرتا ہے تو 15 دن کے اندر ریاستی حکومت سے شکایت کی جا سکتی ہے۔
قواعد توڑنے پر سزا
حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ان قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے چھ ماہ تک کی جیل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار روپے تک جرمانہ یا پھر جیل اور جرمانہ دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں۔
سویندو ادھیکاری کے فیصلے
وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سویندو ادھیکاری مسلسل بڑے فیصلے لے رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ بنگال میں اب کٹ منی اور تولے بازی نہیں چلے گی۔ بدعنوانی روکنے کے لیے ہر ماہ ضلع مجسٹریٹس اور اراکینِ اسمبلی کی مشترکہ میٹنگ ہوگی۔
وزیرِ اعلیٰ کا اہم قدم
سی ایم نے یکم جون سے ’انّپورنا یوجنا‘ شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ وہیں چندر ناتھ رتھ قتل کیس کی جانچ کے لیے حکومت نے سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ واضح رہے کہ بنگال میں پہلی بار بی جے پی کی حکومت بنی ہے اور سویندو ادھیکاری نے 9 مئی کو وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ ان کے ساتھ پانچ اراکین اسمبلی بھی وزیر بنے ہیں۔
عید الاضحیٰ سے پہلے جاری کیے گئے ان نئے قوانین سے واضح ہو گیا ہے کہ بنگال حکومت جانوروں کے ذبیحہ متعلقہ مقامات پر کرائےجانے کے معاملے میں سختی برتنے کے موڈ میں ہے۔ ساتھ ہی سویندو ادھیکاری مسلسل ایسے فیصلے لے رہے ہیں جو ریاست کی سیاست اور انتظامیہ پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


