Bharat Express DD Free Dish

Bareilly Namaz Dispute: ’گھر فروخت کے لیے ہے‘! اجتماعی نماز مخالف ہندوؤں نے لکھا اپنا درد، بریلی کا محمد گنج بن گیا چھاؤنی

بریلی کے محمد گنج گاؤں کی دیواروں پر لکھا گیا جملہ ’گھر فروخت کے لیے ہے‘ نے پورے اتر پردیش میں ہلچل مچا دی  ہے۔ پولیس نے گاؤں کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے، لیکن دلوں میں پڑی  یہ خلیج کیسے پُر ہوگی یہ بڑا سوال ہے۔ جانیے پورا معاملہ کیا ہے۔

اتر پردیش کے بریلی ضلع کا بشارت گنج علاقہ اس وقت فرقہ وارانہ کشیدگی اور ’نقل مکانی‘ کے شور سے گونج رہا ہے۔ محمد گنج گاؤں میں ’اجتماعی نماز‘ سے متعلق تنازعہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ درجنوں ہندو خاندانوں نے اپنے گھروں کے باہر چوک پر ’’یہ گھر فروخت کے لیے ہے‘‘ لکھ دیا ہے۔ دیہی باشندوں کا الزام ہے کہ دوسرے مذہبی طبقے کے لوگ انہیں تنگ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ مجبوراً اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

کیا ہے پورا معاملہ؟ (بریلی محمد گنج تنازعہ)

تنازعہ کی جڑ گاؤں کے کچھ ذاتی گھروں میں جمعہ کے دن ہونے والی ’اجتماعی نماز‘ ہے۔ ہندو فریق کا کہنا ہے کہ گاؤں میں نہ کوئی مسجد ہے اور نہ ہی مندر، لیکن اس کے باوجود، مسلم کمیونٹی کے لوگ گھروں میں جمع ہو کر ایک نئی روایت شروع کر رہے ہیں۔ خواتین کا الزام ہے کہ انہیں ڈرایا جاتا ہے ۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ:’’نماز کے بہانے بھاری بھیڑ جمع ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہندوؤں کے ساتھ گالی گلوچ کی جاتی ہے، ان کے گھروں پر گندا پانی پھینکا جاتا ہے اور احتجاج کرنے پر فائرنگ تک کی گئی ہے۔‘‘

16 جنوری سے سلگتی چنگاری (بریلی نماز تنازعہ)

تناؤ کی شروعات تقریباً ایک ماہ قبل 16 جنوری کو ہوئی، جب ایک گھر میں اجتماعی نماز کا ویڈیو وائرل ہوا۔ اس وقت پولیس نے موقع پر پہنچ کر معاملہ خاموش کروایا اور بغیر اجازت نماز پڑھنے والوں کا چالان بھی کیا۔ لیکن گزشتہ جمعہ کو پھر وہی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے بعد ہندو کمیونٹی کا غصہ پھوٹ پڑا اور انہوں نے اجتماعی نقل مکانی کی دھمکی دے دی۔

پولیس کی کارروائی اور ’گھر فروخت کے لیے ہے‘ کے نعرے

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہندو تنظیموں (بجرنگ دل) کے عہدیدار بھی گاؤں پہنچ گئے۔ صورتحال کشیدہ دیکھ کر بشارت گنج پولیس حرکت میں آئی اور گاؤں پہنچ کر دیواروں پر لکھے ’’گھر فروخت کے لیے ہے‘‘ کے نعرے ہٹوا دیے۔ تھانہ انچارج ستیش کمار نے کہا کہ جن لوگوں نے بغیر اجازت اجتماعی نماز پڑھی تھی، انہیں سخت ہدایت دی گئی ہے۔ فی الحال صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور گاؤں میں پولیس تعینات ہے۔ کسی کو بھی نئی روایت شروع کرنے یا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مسلم فریق کی دلیل

دوسری جانب، مسلم کمیونٹی کا کہنا ہے کہ گاؤں میں عبادت کے لیے کوئی مسجد نہیں ہے، اس لیے وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھتے ہیں۔ انہوں نے فائرنگ اور ہراسانی کے الزامات کو مکمل طور پر جھوٹ اور سازش قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نماز ایک مکمل طور پر خاموشی  سے ادا کی جانے والی عبادت ہے۔ نماز میں نہ  تو کوئی آتش بازی کرتا ہے اور نہ ہی پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں، اس کے ساتھ ہی ایک وقت کی نماز میں صرف پانچ سے دس منٹ لگتے ہیں، یہ گھنٹوں تک ادا کی جانے والی ہڑدنگ بازی  اور شور شرابا نہیں ہے۔ اس سے کسی کو کیونکر تکلیف ہو سکتی ہے؟

واضح رہے کہ آئین ہند ہر بھارتی شہری کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔  ایسے میں سوال یہ ہے کہ صدیوں سے اس ملک میں مسلمان نماز ادا کرتے آئے ہیں  ،کبھی کسی کو کوئی دشواری نہیں ہوئی تو آخر اب ایسا کیا ہو گیا کہ پانچ سے دس منٹ والی نماز سے کچھ لوگوں کو دشواری ہو رہی ہے؟

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read