یوپی کانگریس صدر اجے رائے۔
لکھنؤ۔ اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے ہفتہ کے روز بریلی تنازع کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سازش ہے جسے جان بوجھ کر بھڑکایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے یہ سب کچھ کروا رہی ہے۔ پولیس کی طرف سے یہ لاٹھی چلوائی گئی ہے، جو کہ میری نظر میں پوری طرح سے قابلِ مذمت ہے۔ اسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘
یہ سب کچھ کسی کی شہ پر کیا جا رہا ہے: اجے
انہوں نے کہا کہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اجازت کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ جب حکومت چاہتی ہے تو ہمیں ہاؤس اریسٹ کروا لیتی ہے۔ آپ نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر ہونے دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ سب کچھ کسی کی شہ پر کیا جا رہا ہے، جو کہ بالکل غلط ہے، اور اسی کے بہانے یہ لوگ اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
’آئی لو محمد‘ مہم پر اجے رائے نے کیا کہا؟
وہیں ’آئی لو محمد‘ مہم پر اجے رائے نے کہا کہ ہندوستان میں ہر شخص کو اپنے ایشور سے محبت کرنے کا پورا حق ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس میں سیاست کا رنگ گھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ عام عوام کو پریشان کرنے کے مقصد سے ان کے مکان گراتے ہیں، ان کے وسائل پر قبضہ کرتے ہیں اور انہیں بے وجہ پریشان کرتے ہیں۔
یواین میں پاک کے بیان پر اجے رائے کا ردعمل
اس کے علاوہ، اقوامِ متحدہ میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان پر اجے رائے نے کہا کہ یقینی طور پر ہندوستان کے وزیر اعظم کو یہ بات کھل کر بتانی چاہیے۔ انہیں پاکستان کے وزیر اعظم کے بیان کے پیچھے کا پورا مقصد عوام کے سامنے رکھنا چاہیے کہ آخر انہوں نے کس مقصد سے یہ بیان دیا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کو آگے آ کر یہ واضح کرنا چاہیے کہ پاکستان کے وزیر اعظم کی باتوں میں کتنی سچائی ہے، ورنہ اس سے عوام کے درمیان بھرم کی کیفیت پیدا ہوگی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


