مہاراشٹر کے ہنگولی ضلع کے پوٹرا گاؤں کی رہنے والی بیوہ رمابائی رنویر بیڑ میں واقع دنیان دیپ اکیڈمی کے کچن میں کام کرتی ہیں۔ وہ روزانہ 200 سے زائد روٹیاں تیار کرتی ہیں اور انہیں تقریباً 9,000 روپے ماہانہ آمدنی ہوتی ہے۔ رمابائی کو طویل فاصلے تک دوڑنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ مقامی دوڑ کے فاتح کو نقد انعام دیا جائے گا تو انہوں نے اس میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں انہیں امید تھی کہ انعام کے طور پر 3,000 روپے ملیں گے، لیکن ان کی کوشش کے عوض انہیں آخرکار 5,000 روپے دیے گئے۔
چپل اتر گئی، لیکن دوڑ نہیں روکی
دوڑ کے دوران رمابائی کی چپل اتر گئی، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے رقم حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ وہ ننگے پاؤں دوڑتی رہیں اور 3 کلومیٹر کا فاصلہ مکمل کیا۔ انعامی رقم میں سے انہوں نے کچھ رقم اپنی چھوٹی بیٹی پوجا کے لیے کاپیاں اور قلم خریدنے پر خرچ کی، جبکہ باقی رقم اپنی دوسری بیٹی آرتی کی تعلیم کے لیے محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا۔
شوہر کی موت کے بعد سنبھالی گھر کی ذمہ داری
رمابائی نے اپنے شوہر کی 2012 میں موت کے بعد موجودہ ملازمت اختیار کی۔ ان کی آمدنی سے نہ صرف دونوں بیٹیوں کی تعلیم کا خرچ پورا ہوتا ہے بلکہ گھر کے ضروری اخراجات بھی چلتے ہیں۔
کہانی نے تعلیم کے اخراجات کا بڑا مسئلہ اجاگر کیا
رمابائی کی جدوجہد ان خاندانوں کو درپیش مالی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے پُرعزم ہونے کے باوجود تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ رمابائی کا عزم اور حوصلہ یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن ان کا تجربہ اس بڑے سوال کو بھی سامنے لاتا ہے کہ آخر خاندانوں کو اپنے بچوں کی بنیادی تعلیم کے لیے اتنی شدید مالی مشکلات کیوں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ ان کی کہانی یہ یاد دلاتی ہے کہ بچوں کو بنیادی تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے والدین کو انتہائی مالی مشکلات سے نہیں گزرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ضرورت بھی اجاگر ہوتی ہے کہ معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے لیے ایسے مضبوط امدادی نظام تیار کیے جائیں، جن سے تعلیم زیادہ قابلِ رسائی اور عام لوگوں کے لیے آسان بن سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


