سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان۔ (فائل فوٹو)
الہٰ آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق کابینہ وزیر محمد اعظم خان کو ’’کوالیٹی بار لینڈ کیس‘‘ میں ضمانت دے دی۔ اس اہم پیش رفت کے بعد ان کی جیل سے جلد رہائی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ اعظم خان کے وکیل محمد خالد نے نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب ان کے مؤکل کے خلاف کوئی ایسا مقدمہ باقی نہیں رہا جو انھیں جیل میں رکھ سکے۔ ان کے مطابق ’’آج کی تاریخ میں تمام مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے اور رہائی کے عمل میں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔ فی الحال کوئی اور زیر التواء مقدمہ نہیں ہے۔‘‘
’’کوالیٹی بار لینڈ کیس‘‘ کی تفصیلات بتاتے ہوئے خالد نے کہا کہ الزام یہ ہے کہ 2013 میں جب اعظم خان اتر پردیش حکومت میں کابینہ وزیر تھے، تو انھوں نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک عمارت اور زمین کو اپنے خاندان کے فرد کے حق میں لیز پر الاٹ کرایا۔ وکیل کے مطابق ’’یہ معاملہ ایک سوسائٹی سے متعلق ہے جس کی ملکیت میں ’کوالیٹی بار‘ نامی عمارت اور کچھ زمین شامل تھی۔ الزام تھا کہ خان صاحب نے سوسائٹی پر اثرانداز ہو کر یہ زمین اپنی اہلیہ کو الاٹ کرائی۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سوسائٹی ایک خودمختار ادارہ ہے، اس نے باقاعدہ ٹینڈر جاری کیا اور سب سے بڑی بولی خان صاحب کی اہلیہ کی طرف سے آئی، جس پر زمین انھیں الاٹ کی گئی۔‘‘
محمد خالد نے مزید بتایا کہ یہ واقعہ 2013 کا ہے، تاہم ایف آئی آر 2019 میں درج ہوئی اور مزید تفتیش 2024 میں کی گئی، جس میں اعظم خان کو ملزم نامزد کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’’ہم نے عدالت کے سامنے تمام شواہد رکھے اور بالآخر آج اس مقدمے میں بھی انھیں ضمانت دے دی گئی۔‘‘ اس سے قبل 16 مئی کو اعظم خان کے وکیل ناصر سلطان نے بتایا تھا کہ ایم پی-ایم ایل اے کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج وِویک کمار نے عدم شواہد کی بنیاد پر اعظم خان اور دیگر سات افراد کو ایک اور مقدمے میں بری کر دیا ہے۔ ناصر سلطان کے مطابق 2016 میں ڈونگرپور واقعے کے دوران درج کی گئی تقریباً درجن بھر ایف آئی آرز میں اعظم خان سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ اعظم خان کے خلاف کئی سالوں سے مختلف قانونی مقدمات زیر سماعت تھے، تاہم اب عدالتوں سے مسلسل راحت ملنے کے بعد ان کی رہائی یقینی دکھائی دے رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

