الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سمیر جین نے سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر محمد اعظم خان کے بعد اب ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کی عرضی کی سماعت سے بھی خود کو الگ کر لیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس عرضی کو سماعت کے لیے کسی دوسری بینچ کے سامنے پیش کیا جائے۔ یہ عرضی رامپور میں ندی کی زمین کی غیر قانونی پلاٹنگ کے معاملے میں درج ایف آئی آر اور چارج شیٹ کو چیلنج کرنے کے سلسلے میں دائر کی گئی تھی۔ اس سے قبل بھی جسٹس سمیر جین نے 2016 کے یتیم خانہ بے دخلی معاملے میں اعظم خان کی عرضی پر سماعت سے اپنے آپ کو الگ کر لیا تھا۔
معاملہ کیا ہے؟
ایف آئی آر کے مطابق عبداللہ اعظم خان سمیت دیگر ملزمین پر الزام ہے کہ انہوں نے رامپور میں ندی کی سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر پلاٹنگ کی اور قبضہ کیا۔ پولیس نے معاملے میں چارج شیٹ عدالت میں داخل کر دی ہے۔ عبداللہ اعظم نے چارج شیٹ اور مقدمے کی کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس کی سماعت پیر کے روز جسٹس سمیر جین کی بینچ میں ہونی تھی۔ سماعت کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انوپ تریویدی، ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر پرتوش کمار مالویہ اور درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکلاء موجود تھے۔ اس دوران جسٹس سمیر جین نے خود کو معاملے کی سماعت سے الگ کرتے ہوئے حکم دیا کہ عرضی کو چیف جسٹس کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اسے کسی دوسری بینچ کو منتقل کیا جا سکے۔
مزید مقدمات زیرِ التوا
سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے لیے مشکلات بدستور بڑھ رہی ہیں۔ ان کے خلاف متعدد فوجداری مقدمات کی سماعت تیزی سے انجام پا رہی ہے اور بہت سے مقدمات فیصلہ کے مرحلے میں پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ نومبر میں تین مقدمات کے فیصلے آئے جن میں سے دو میں انہیں بری کیا گیا جبکہ ایک مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق دسمبر کے مہینے میں بھی دو اہم مقدمات کے فیصلے آنے کی امید ہے، جس سے اعظم خان اور عبداللہ اعظم کی قانونی مشکلات مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ کیس سیاسی طور پر بھی اہم مانا جا رہا ہے، کیونکہ رامپور میں اعظم خان خاندان کا سیاسی اثر و رسوخ طویل عرصے سے قائم رہا ہے اور ان معاملات کے فیصلے آئندہ سیاسی منظرنامے پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
