سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ مختلف قانونی معاملات میں گھرے اعظم خان کو اب ایک اور بڑا جھٹکا لگا ہے۔ محکمۂ انکم ٹیکس نے ان کی جوہر یونیورسٹی چلانے والے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کو نیا نوٹس جاری کیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد رام پور سے لے کر لکھنؤ تک سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ یہ پوری کارروائی بی جے پی رکنِ اسمبلی آکاش سکسینہ کی تقریباً پانچ سال پرانی شکایت کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔
پانچ سال پرانی شکایت اور 3 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا معاملہ
دراصل یہ معاملہ مارچ 2021 کا ہے، جب رام پور سے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی آکاش سکسینہ نے مرکزی وزیرِ داخلہ کے ذریعے مرکزی بورڈ برائے براہِ راست ٹیکس (CBDT) سے جوہر ٹرسٹ کے خلاف تحریری شکایت کی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ اعظم خان نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور لوگوں کو خوفزدہ کرکے بڑی مقدار میں جائیدادیں حاصل کیں اور بعد ازاں انہیں یونیورسٹی کی تعمیر میں استعمال کیا۔ شکایت میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ جوہر یونیورسٹی میں تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی، جبکہ عطیہ دینے والوں میں بعض ایسے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے 60-60 کروڑ روپے تک چندہ دیا، لیکن دستاویزات کے مطابق وہ خود انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ٹرسٹ میں اعظم خان کے اہلِ خانہ کو عہدے دار اور رکن بنانے پر اقربا پروری اور بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
ای ڈی اور ایس آئی ٹی بھی کر چکی ہیں تحقیقات
یہ کارروائی اچانک نہیں ہوئی۔ اس سے قبل ستمبر 2023 میں بھی محکمۂ انکم ٹیکس کی ٹیمیں رام پور پہنچ کر کئی دنوں تک جانچ پڑتال کر چکی تھیں۔ اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) بھی اعظم خان سے طویل پوچھ گچھ کر چکا ہے، جبکہ اتر پردیش حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) بھی اس معاملے کی جانچ میں مصروف ہے۔
23 جون کو ہوگی سماعت
محکمۂ انکم ٹیکس، لکھنؤ کی جانب سے جاری تازہ نوٹس کے مطابق اس معاملے کی اگلی سماعت 23 جون کو صبح 11:30 بجے ہوگی۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ اعظم خان یا ان کے مجاز وکیل/نمائندے کو متعلقہ دستاویزات کے ساتھ پیش ہونا ہوگا۔ اگر وہ ذاتی طور پر حاضر نہیں ہونا چاہتے تو ای-فائلنگ پورٹل کے ذریعے اپنے دستاویزات آن لائن بھی جمع کرا سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



