آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی۔
نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) صدراورحیدرآباد لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے یوم آزادی پرسلاٹرہاؤس (مذبح خانے) اورگوشت کی دکانوں کو بندکرنے کی تنقید کی ہے اورمیونسپل کارپوریشن کے افسران کے اس قدم کو ’حساس‘ اور’غیرآئینی‘ قراردیا ہے۔
اویسی نے سوشل میڈیا پرکیا پوسٹ
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے بدھ کے روز ’ایکس‘ پرکئی میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ جاری احکامات کی تنقید کی اور گوشت کھانے اوریوم آزادی کے درمیان تعلقات پرسوال اٹھایا۔ اویسی نے پوسٹ کیا، ”ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان بھر کے کئی میونسپل کارپوریشنوں نے 15 اگست کوسلاٹرہاؤس اورگوشت کی دکانوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ بدقسمتی سے، جی ایچ ایم سی نے بھی ایسا ہی حکم دیا ہے۔ یہ حساس اورغیرآئینی ہے۔“
لوگوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہو رہی ہے: اویسی
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے کہا، ”گوشت کھانے اور یوم آزادی منانے کے درمیان کیا تعلق ہے؟ تلنگانہ کے 99 فیصد لوگ گوشت کھاتے ہیں۔ یہ گوشت پر پابندی لوگوں کی آزادی، رازداری، معاش، ثقافت، غذائیت اورمذہب کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔” جی ایچ ایم سی نے یوم آزادی اور جنم اشٹمی کے موقع پرگوشت کی دکانوں کوبند رکھنے کے احکامات پہلے ہی جاری کردیئے ہیں۔
“This is callous, unconstitutional”: Owaisi slams Hyderabad Municipal Corporation’s banning meat shops on Independence Day
Read @ANI Story | https://t.co/6b569wa1KG#Owaisi #Hyderabad #MunicipalCorporation pic.twitter.com/gmasENvq1J
— ANI Digital (@ani_digital) August 13, 2025
میونسپل کارپوریشن نے جی ایچ ایم سی ایکٹ، 1955 کی دفعہ 533 (بی) کے تحت یہ حکم جاری کیا ہے۔ جی ایچ ایم سی کمشنر نے یہ حکم حیدرآباد، سائبرآباد اور راچ کونڈا کے پولیس کمشنروں کو بھیجا ہے۔ تمام ویٹرنری افسران، اسسٹنٹ ڈائرکٹرس (ویٹرنری)، ڈپٹی ڈائرکٹرس (ویٹرنری) اورجی ایچ ایم سی کے ویٹرنری سیکشن کوحکم کی سختی سے تعمیل کویقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


