نئی دہلی :انڈین آئل کارپوریشن نے جمعہ کو واضح کیا کہ ملک میں گھریلو ایل پی جی کی سپلائی مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور روزانہ تقریباً 28 لاکھ سلنڈرز یوزر تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ سرکاری تیل کمپنی نے کہا کہ عالمی سطح پر چیلنجز کے باوجود آپریشنز میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی ہے۔انڈین آئل نے صارفین کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں ہے، اس لیے گھبراہٹ میں اضافی بکنگ یا ذخیرہ اندوزی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ملک بھر کے گھروں تک ایل پی جی کی بلا رکاوٹ سپلائی یقینی بنائی جا رہی ہے اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
کمپنی کے مطابق اب تقریباً 87 فیصد ایل پی جی بکنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے ایس ایم ایس اور آئی وی آر ایس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔یوزر کو سلنڈر کی فراہمی کے وقت ڈی اے سی او ٹی پی کے ذریعے تصدیق کی جاتی ہے تاکہ شفاف اور محفوظ ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔انڈین آئل نے بتایا کہ یوزر کی شکایات اور خدشات کو دور کرنے کے لیے سرکاری معاونت کے چینلز کے ذریعے فوری کارروائی کی جا رہی ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ مہاجر مزدوروں کے لیے درست شناختی دستاویزات دکھانے پر تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے 5 کلوگرام کے ایف ٹی ایل سلنڈر مسلسل دستیاب کرائے جا رہے ہیں تاکہ سپلائی میں آسانی برقرار رہے۔
کمپنی نے کہا کہ مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں اور سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے۔ اس لیے عوام کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔انڈین آئل نے مزید کہا کہ گھریلو ایل پی جی یوزر کمپنی کی اولین ترجیح ہیں اور ملک بھر میں مجاز ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے سپلائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی کالا بازاری روکنے کے لیے سخت نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔کمپنی نے عوام کو سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں سے محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بوتلوں یا کھلے کنٹینرز میں پٹرول بھرنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

