جے پور: راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں انو مینا خودکشی معاملے نے نیا موڑ لے لیا ہے۔ واقعے کے تقریباً 40 دن بعد پولیس نے آخرکار شوہر اور سسرال والوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ملزمان کے فرار ہونے کی خبر سامنے آئی ہے، جس کے بعد پولیس ان کی تلاش میں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔
گھریلو تشدد میں گئی جان
اطلاعات کے مطابق انو مینا نے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل مشتبہ حالات میں خودکشی کر لی تھی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ شادی کے بعد سے ہی انو کو ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کیا جا رہا تھا۔ بار بار اسے جہیز کے لیے پریشان کیا جاتا تھا اور کئی مرتبہ مارپیٹ بھی کی گئی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ مسلسل ظلم و ستم سے تنگ آکر انو نے اپنی جان دے دی۔
پولیس پر سستی برتنے کا الزام
متوفیہ کے والدین نے الزام لگایا کہ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھائی اور نہ ہی ان کی شکایت پر فوری کارروائی کی گئی۔ اہل خانہ مسلسل انصاف کی مانگ کرتے رہے، جس کے بعد اب جا کر پولیس نے شوہر، ساس، سسر اور دیگر سسرالی افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس افسران کے مطابق ایف آئی آر میں خودکشی کے لیے اکسانے، جہیز ہراسانی اور گھریلو تشدد کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمہ درج ہونے کی اطلاع ملتے ہی ملزمان اپنے گھر سے فرار ہو گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور جلد ہی تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
مقامی لوگوں اور سماجی تنظیموں میں بھی غصہ
اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد مقامی لوگوں اور سماجی تنظیموں میں بھی غصہ پایا جا رہا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے الزام لگایا کہ اگر پولیس بروقت کارروائی کرتی تو شاید متاثرہ خاندان کو اتنا انتظار نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے معاملات میں فوری تفتیش اور سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
حکومت سے انصاف کی اپیل
ادھر انو مینا کے اہل خانہ نے حکومت سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور بیٹی کو ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


