گزشتہ ہفتے آسام کے گولپارہ ضلع میں انسداد تجاوزات مہم شروع کی گئی تھی۔ اس مہم کے دوران مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ پرتشدد جھڑپوں کے دوران پولیس کو فائرنگ کرنا پڑی جس میں ایک شخص ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ گول پاڑہ ضلع میں پاکن ریزرو فاریسٹ میں 140 ہیکٹر جنگلاتی اراضی کو خالی کرنے کے لیے 12 جولائی کو انسداد تجاوزات مہم شروع کی گئی۔ یہاں تقریباً 1080 خاندانوں کے مکانات کو بلڈوز کر دیا گیا۔ مکانات منہدم ہونے کے بعد بھی لوگ خیموں میں رہ رہے تھے۔ تجاوزات ہٹانے کا کام بغیر کسی واقعہ کے کیا گیا۔
ڈرائیو ختم ہونے کے بعد بھی بہت سے متاثرہ خاندان وہاں ترپال کے خیموں جیسے عارضی انتظامات میں رہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کہیں اور جانے کی جگہ نہیں ہے۔ جمعرات کی صبح جب اہلکار ان خیموں کو ہٹانے آئے تو ان متاثرہ خاندانوں کی پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ آئی جی پی (لا اینڈ آرڈر) اکھلیش سنگھ نے کہاکہ جنگل کی ٹیم اور پولیس بے دخل علاقے میں معمول کی گشت کر رہی تھی تبھی مقامی لوگوں نے سرکاری ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں پر حملہ کر دیا۔ تقریباً 10 کانسٹیبل زخمی ہوئے اور سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا، جس کا ہم جائزہ لے رہے ہیں۔ لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے انہیں طاقت کا استعمال کرنا پڑا، جس میں دو شخص کو گولیاں لگیں اور ایک دوسرے کی موت ہو گئی۔متوفی کی شناخت شکور علی کے نام سے ہوئی ہے۔
تجاوزات مہم کے دوران ایک ہزار کے قریب سکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔ اکھلیش سنگھ نے کہاکہ بے دخلی کے بعد ہم نے کچھ سیکورٹی فورسز کو واپس لے لیا تھا۔ اب ہم نے اضافی فورسز کو تعینات کر دیا ہے۔ جنگلات اور پولیس کی ٹیموں کی مقامی لوگوں کے ساتھ اس وقت جھڑپ ہوئی جب انہوں نے بے دخلی کی جگہ پر داخلے کے راستوں کو بند کرنے کی کوشش کی۔واضح رہے کہ گول پاڑہ میں کافی عرصے سے تجاوزات ہٹانے کی مہم جاری ہے۔ چار دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے کہا کہ 2021 میں ان کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے تقریباً 50,000 لوگوں کو تقریباً 160 مربع کلومیٹر زمین سے بے دخل کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
