بھارت کے عظیم آزادی پسند جنگ جو، مفکر اور صحافی لوک مانیہ بال گنگا دھر تلک کو آج ان کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لوک مانیہ تلک جی کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے ہندی اور مراٹھی میں لکھا کہ ’’سودیشی، سوراج اور سوسنسکرتی کی علامت لوک مانیہ بال گنگادھر تلک جی کو ان کی برسی پر عاجزانہ خراج عقیدت۔ تلک جی نے سوراج کو عوامی تحریک، سودیشی کو عوامی شعور اور ثقافت کو قومی فخر کا راستہ بنایا۔ انھوں نے گنیش اتسو اور چھترپتی شیواجی مہاراج جینتی سے سماجی اتحاد، کیسری اور مراٹھا اخبارات کے ذریعے آزادی اور گیتا رہسیہ کے ذریعے ’کرم یوگ‘ کی ترغیب دی۔ اچھوت کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کرنے والے تلک جی کی زندگی ہمیشہ اہل وطن کی رہنمائی کرتی رہے گی۔‘‘
स्वदेशी, स्वराज और स्वसंस्कृति के प्रतीक लोकमान्य बाल गंगाधर तिलक जी की पुण्यतिथि पर उन्हें विनम्र श्रद्धांजलि।
तिलक जी ने स्वराज को जनआंदोलन, स्वदेशी को जनचेतना और संस्कृति को राष्ट्रगौरव का मार्ग बनाया। उन्होंने गणेश उत्सव और छत्रपति शिवाजी महाराज जयंती से सामाजिक एकता, केसरी… pic.twitter.com/0uDwFrVFS6
— Amit Shah (@AmitShah) August 1, 2025
واضح رہے کہ لوک مانیہ تلک انگریزوں کے خلاف عوام کو بیدار کرنے والی ابتدائی شخصیات میں شامل تھے۔ وہ نہ صرف ایک نڈر سیاسی رہنما تھے بلکہ ایک بلند پایہ ادیب، فلسفی اور سماجی مصلح بھی تھے۔ ’’سوراج میرا جنم سدھ ادھیکار ہے اور میں اسے لے کر رہوں گا‘‘ جیسے الفاظ آج بھی عوامی حوصلہ بلند کرتے ہیں۔ وہیں انھوں نے گنیش اتسو اور شیواجی مہاراج کی جینتی کو محض مذہبی تقاریب سے بڑھا کر ایک اجتماعی سیاسی تحریک میں بدلا، جس سے قوم پرستی کو فروغ ملا۔ اس کے علاوہ ان کے اخبارات ’’کیسری‘‘ اور ’’مراٹھا‘‘ نے آزادی کے جذبے کو عوام تک پہنچایا۔ ان کی تصنیف ’’گیتا رہسیہ‘‘ میں کرم یوگ کی تشریح آج بھی نوجوانوں کو عملی زندگی کی طرف راغب کرتی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے چھوت چھات کے خلاف آواز بلند کر کے سماجی مساوات کی بنیاد رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



