بی جے حکومت کے خلاف جنتر منتر کے احتجاج کی تاریخ میں تبدیلی
نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وقف ترمیمی بل کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاجی مظاہرہ کی تاریخ میں تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ اب 13 مارچ کے بجائے 17 مارچ کو احتجاج کیا جائے گا۔ اس میں مختلف تنظیمیں بھی شامل ہوں گی۔
وقف ترمیمی بل کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کا اعلان
دہلی واقع پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی اور ترجمان قاسم رسول الیاس نے وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں اس لڑائی میں دیگر اقلیتوں کا بھی ساتھ مل رہا ہے۔ کیونکہ یہ لڑائی ہندو اور مسلم کی لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ وقف اور حکومت کی لڑائی ہے۔ اس لئے سبھی کو ہمارے ساتھ آنا چاہئے۔
’’ہمارے جذبات سے کھلواڑ نہ کیا جائے‘‘
مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ حکومت کسی بھی حال میں ہم پر یہ قانون تھوپ دینا چاہتی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں کسی طرح کا انتشار پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حالات ملک کے لئے اچھا نہیں ہے۔ ہم حکومت سے بہت احترام کے ساتھ یہ گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے جذبات سے کھلواڑ نہیں کیا جائے۔ ہم ملک میں امن وامان کے خواہاں ہے اور ملک کے مفاد میں کسی بھی غیر جمہوری عمل کی حمایت نہیں کرسکتے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ ہمارے پاس جو جمہوری اختیارات ہیں، ان کا ہم استعمال کریں گے اور سڑکوں پر اترکر احتجاج کریں گے۔
قاسم رسول الیاس نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 سے متعلق ایک ایک ترمیم کا جائزہ لیا اور اس پر رپورٹ تیار کی۔ وقف ترمیمی بل کے لئے بنائی گئی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) سے بھی ملاقات کی۔ سب نے کہا کہ اتنی اہم جانکاریاں ہمارے پاس نہیں تھیں، لیکن بہت تفصیلی رپورٹ آپ کے ہمیں پیش کی ہے۔ اس کو ہم ضرور دیکھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے وقف بل کے خلاف بی جے پی کی اتحادی جے ڈی یو، ٹی ڈی پی اور چراغ پاسوان کی ایل جے پی سے بھی بات کی اور انہیں مسلمانوں کے جذبات سے واقف کرایا۔ ہم ان سے امید کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھیں کیونکہ وہ اقلیتوں کے ہمدرد رہے ہیں۔
مسلمانوں کو نظر انداز کر رہی ہے حکومت
قاسم رسول الیاس نے کہا کہ کسی بھی ملک میں جب بھی کوئی ترمیم تجویز کی گئی تب اسٹیک ہولڈرز سے بات کی گئی۔ جے پی سی نے ہمارے اعتراضات کو بھی نہیں دیکھا۔ ملک کے ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔ اس کے باوجود یہ حکومت مسلمانوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

