سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو۔
لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اتوار کے روز 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں انتخابی کمیشن کے کردار پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ بڑی تعداد میں ایس پی حامیوں کے ووٹ کاٹے گئے، جس کے باعث ان کی پارٹی حکومت نہیں بنا سکی۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں جن لوگوں نے ووٹ ڈالا تھا، ان میں سے کئی افراد کو 2022 میں ووٹ دینے کا حق نہیں ملا۔
ایس پی صدر نے پارٹی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ انتخابات کے فوراً بعد ہی سماج وادی پارٹی نے ووٹر فہرست میں گڑبڑی اور ایس پی حامیوں کے ووٹ کاٹے جانے کی بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں پارٹی اس طرح کی گڑبڑیوں کو سمجھ نہیں سکی، کیونکہ اسے یقین تھا کہ انتخابی کمیشن غیر جانب داری اور ایمانداری سے کام کر رہا ہے۔ اکھلیش نے الزام لگایا کہ انتخابات میں گڑبڑی کا سلسلہ طویل عرصے سے چل رہا تھا، لیکن اب اس کے طریقے سامنے آ رہے ہیں۔
فارم-7 کے ذریعے ووٹروں کے نام حذف کرانے کا الزام
ان کے مطابق، بی جے پی سے وابستہ لوگوں نے گاؤں گاؤں جا کر اپوزیشن ووٹروں کے نام کٹوانے کی کوشش کی اور بڑی تعداد میں فارم-7 بھر کر جمع کرائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لکھنؤ میں ایک شخص نے 100 سے زیادہ ووٹروں کے نام حذف کرانے کے لیے فارم-7 جمع کیے، جبکہ ان کے مطابق ضابطے کے تحت ایک شخص زیادہ سے زیادہ پانچ ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی کمیشن کو ایسی شکایات پر کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ انتخابی کمیشن کے مطابق فارم-7 موجودہ انتخابی فہرست میں کسی نام کو حذف کرنے یا کسی نام کی شمولیت پر اعتراض درج کرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
2022 میں ووٹ ڈالنے سے روکنے کا بھی دعویٰ
اکھلیش نے دعویٰ کیا کہ 2022 میں ان لوگوں کو بھی کئی مقامات پر ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا، جنہوں نے 2019 میں ووٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی بعد میں ووٹر فہرست کو لے کر زیادہ محتاط ہوئی اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اسی بیداری کی وجہ سے پارٹی نے اتر پردیش میں سب سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ جتوائے۔ اکھلیش یادو نے بی جے پی پر ضمنی انتخابات میں بھی انتخابی عمل کو متاثر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے سادہ لباس میں ووٹ ڈلوانے اور ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے کی شکایات سامنے آئی تھیں۔
انتخابی کمیشن کے کردار پر اکھلیش کا سوال
انہوں نے کہا کہ انتخابی کمیشن کی مبینہ بے ضابطگیاں اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے انتخابی کمیشن کا دفاع کیے جانے پر اکھلیش نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ انتخابی کمیشن کے حق میں بول رہے ہیں تو اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بی جے پی بھی مبینہ ووٹ کٹوتی کے معاملے میں شامل تھی۔ اکھلیش نے بی جے پی پر اپوزیشن ووٹروں کے نام ووٹر فہرست سے حذف کرانے کے لیے نجی افراد کے استعمال کا بھی الزام لگایا۔
2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاری کا ذکر
اکھلیش نے کہا کہ فارم-7 کے ذریعے گاؤں گاؤں اپوزیشن ووٹروں کے نام حذف کرانے کی کوشش کی گئی اور بعد میں فارم-7 کے عمل پر روک لگائی گئی۔ ایس پی صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے پوری طرح سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو شکست دی گئی اور اب 2027 میں بھی پارٹی کو شکست دینے کے لیے ہر اسمبلی حلقے میں 27 ہزار ووٹ بڑھانے کے ہدف کے ساتھ کام کیا جائے گا۔ اکھلیش نے بی جے پی پر سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلانے اور اپوزیشن لیڈران کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی انتخابی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ووٹر فہرست کو لے کر بھی پوری طرح چوکس رہے گی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



