لکهنؤ (اتر پردیش): سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے جمعہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت حملہ کرتے ہوئے بہار اسمبلی انتخابات میں مہا گٹھ بندھن کی مایوس کن کارکردگی کا ذمہ دار اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کو قرار دیا اور اسے ایک منظم ’’الیکٹورل سازش‘‘ سے تعبیر کیا۔
SIR ایک انتخابی سازش ہے—اکھلیش یادو
اپنے بیان میں یادو نے کہا کہ بہار میں جو ’’کھیل‘‘ SIR کے ذریعے کھیلا گیا، وہ اب مغربی بنگال، تمل ناڈو، اتر پردیش یا کسی اور ریاست میں ممکن نہیں ہوگا کیونکہ ’’سازش بے نقاب ہوچکی ہے‘‘۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا: ’’اب ہم انہیں یہ کھیل نہیں کھیلنے دیں گے۔ جیسے سی سی ٹی وی ہوتا ہے، ویسے ہی ہمارا ‘PPTV’ یعنی ’پی ڈی اے پرہری‘ چوکس رہے گا اور بی جے پی کی نیتوں کو ناکام بنائے گا۔ بی جے پی کوئی پارٹی نہیں، ایک فریب ہے۔‘‘
بہار میں NDA کی بھاری سبقت
ووٹوں کی گنتی کے دوران ملنے والے تازہ رجحانات کے مطابق نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) واضح اور مضبوط برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جو وزیراعلیٰ نتیش کمار کی انتخابی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہوسکتی ہے۔ 243 نشستوں کی اسمبلی میں NDA کی مجموعی برتری 203 نشستوں تک پہنچ چکی ہے۔
نتیش کمار کے لیے اعتماد کی واپسی
تقریباً دو دہائیوں سے بہار کی قیادت کرنے والے نتیش کمار کے لیے یہ انتخابات سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کا امتحان تھے۔ اگرچہ پچھلے چند برسوں میں عوامی تھکن، سیاسی اتحادوں میں تبدیلی اور تنقیدوں کا سامنا رہا، مگر موجودہ رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ ووٹر ایک بار پھر ان کی حکمرانی کے ماڈل پر اعتماد ظاہر کر رہے ہیں۔
بی جے پی–جے ڈی(یو) کا متحد محاذ
وزیراعظم نریندر مودی کی ملک گیر مقبولیت اور نتیش کمار کی زمینی گرفت نے اتحاد کو ایک مضبوط انتخابی طاقت بنا دیا۔ مہم کے دوران دونوں رہنماؤں کی باہمی ہم آہنگی نے ریاست میں بہبود، بنیادی ڈھانچے کی توسیع، سماجی اسکیموں اور انتظامی استحکام کو مرکزی موضوعات کے طور پر پیش کیا۔ رجحانات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ دونوں رہنماؤں کا مشترکہ سیاسی اثر فیصلہ کن مرحلے تک پہنچ چکا ہے، اور بہار میں ایک بڑے مینڈیٹ کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

