Bharat Express DD Free Dish

AI 171: ایئر انڈیا نے فلائٹ نمبر AI 171 کو نیا نمبر دینے کا فیصلہ کیا، جانیے کیا ہے وجہ

AI 171 اس فلائٹ کا نمبر تھا، جو کہ جمعہ کے روز احمد آباد ہوائی اڈے سے ٹیک آف کے کچھ ہی منٹ بعد کریش ہو گئی۔

ایئر انڈیا نے فلائٹ نمبر AI 171 کو آپریٹ نہ کرنے اور اسے فلائٹ نمبر AI 159 کا نام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ AI 171 اس فلائٹ کا نمبر تھا، جو کہ جمعہ کے روز احمد آباد ہوائی اڈے سے ٹیک آف کے کچھ ہی منٹ بعد کریش ہو گئی اور اس میں سوار 242 افراد میں سے سوائے ایک کے باقی سب نے اپنی جانیں گنوا دیں۔

ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ’’احمد آباد سے گیٹ وِک (لندن) جانے والی پرواز کو AI 159 نمبر دیا جائے گا۔ واپسی کی پرواز کو بھی AI160 میں تبدیل کر دیا جائے گا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ تبدیلی جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائے گی۔‘‘ ایئرلائن کے ایک سابق اہلکار نے کہا کہ ’’فلائٹ کا نمبر تبدیل کرنے کا مقصد بری یادوں سے گریز ہے۔ یہ مسافروں اور عملے کے ذہنوں کو ایک دردناک سانحے سے متاثر نہ ہونے دینے کا ایک طریقہ ہے۔‘‘

دریں اثنا حکومت نے اب تک اس حادثے میں ہوئی اموات کے آفیشیل اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں، تاہم اندازہ لگایا جا رہے ہے کہ جہاز پر سوار افراد اور میڈیکل کالج، جس پر جہاز جا گرا تھا، میں موجود طلبا کو ملا کر تقریباً 275 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ حادثے کی جگہ کا دورہ کرنے والے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تصدیق کی ہے کہ جہاز میں موجود 242 افراد میں سے صرف ایک ہی زندہ بچا ہے۔ مزید لوگ اس وقت مارے گئے جب بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے ٹکرا گیا۔

پہلے بھی اٹھائے گئے ہیں ایسے قدم

اس سے قبل 2014 میں ملائیشیا ایئر لائنز نے بھی اپنے گم شدہ طیارے MH370 کو نیا نمبر دیتے ہوئے MH318 کر دیا تھا۔ وہیں لائن ایئر نے بھی اپنی پرواز کو JT610 سے JT618 کر دیا تھا، جو ٹیک آف کے کچھ منٹ بعد جاوا کے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ دریں اثنا ماہرین ایئر انڈیا کے طیارے کے گرنے کی وجہ کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ بلیک باکس برآمد ہو چکا ہے اور اس سے ملنے والی معلومات ہی حادثے کی اصل وجہ کی نشان دہی کر سکتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read